جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مارشل لا کا خطرہ،کچھ خفیہ ہاتھ پھر جمہوری عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں،احسن اقبال کے ٹویٹ نے کھلبلی مچادی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی وداخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ ہماری تاریخ جمہوریت اور آمریت کے گرد گھوم رہی ہے،یہی نہیں ملکی تاریخ مارشل لا اور جمہوریت کے درمیان بھی ڈگمگاتی ہے، کچھ خفیہ ہاتھ پھر جمہوری عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں ، انشا اللہ ہم اِن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے ،ملکی بقا و روشن مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،2017 کا

پاکستان 2013کے پاکستان سے مختلف ہے ،لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر مسائل پر موجودہ حکومت نے قابو پایا ہے، ہر 10سال بعد آمریت ملک پر قابض ہوجاتی ہے،اب 2020میں کیا ہوگا؟۔وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی وداخلہاحسن اقبال نے ایک ٹوئٹر پیغام میں ملکی تاریخ میں آمریت اور جمہوری ادوار کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ جمہوریت اور آمریت کے گرد گھوم رہی ہے ،یہی نہیں ملکی تاریخ مارشل لا اور جمہوریت کے درمیان بھی ڈگمگاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ خفیہ ہاتھ پھر جمہوری عمل میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں ، انشا اللہ ہم اِن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنادیں گے ،ملکی بقا و روشن مستقبل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔وزیر داخلہ نے جمہوریت اور آمریت کا کچھ اس طرح موازنہ کیا کہ سن 50میں ملک میں ڈیموکریسی رہی تو 60میں مارشل لا قابض ہوا ،70میں ایک بار پھر جمہوریت پروان چڑھی تو سن 90میں آمریت نے حکومتی تختہ الٹ دیا،طویل جدوجہد کے بعد 2000میں پھر جمہوری عمل بحال ہوا۔ساتھ ہی وزیرداخلہ احسن اقبال نے سوال کیا کہ ہر 10سال بعد آمریت ملک پر قابض ہوجاتی ہے،اب 2020 میں کیا ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…