بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’میں وہیں موجود تھا، عمران خان نے معافی نہیں مانگی‘‘ کل سماعت کے دوران ایسا کیا ہوا کہ الیکشن کمیشن نے جان چھڑوانے میں ہی عافیت جانی، صحافی سب کچھ سامنے لے آیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی نائنٹی ٹو نیوز کے رپورٹر صدیق جان نے اپنے فیس بک اکائونٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں معافی نہیں مانگی ، چینلز پر چلنے والی خبر من گھڑت ہے ، عمران خان کی الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی تحریر جسے معافی نامہ قرار دیاجا رہا ہے وہ ان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے لکھ کر دی تھی جسے پڑھ کر

الیکشن کمیشن کے پانچوں ارکان نے اسے کئی بار پڑھا اور کئی بار پڑھنے کے باوجود سوچتے اور دیکھتے رہے کہ ان کے ساتھ ڈاکٹر بابراعوان نے کرکیا دیا ہے۔ صدیق جان لکھتے ہیں کہ ایک سال ہوگیاہےعدالتوں میں کیسزکورکرتے۔لیکن ڈاکٹربابراعوان نے جیسے آج الیکشن کمیشن میں جارحانہ اندازمیں کیس لڑاایسا کبھی کسی وکیل کونہیں دیکھا،ڈاکٹربابراعوان نے آج الیکشن کمیشن میں کیس لڑا نہیں،ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی طرح کھیلا ہے۔چاروں طرف کیا خوبصورت چوکے چھکے لگائے۔آج الیکشن کمیشن کولینے کےدینے پڑگئے تھے،عمران خان نے روسٹرم پرآکرمعافی نہیں مانگی تھی،چینلز کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ عمران خان نےمعافی مانگی۔معافی کی تحریرڈاکٹر بابراعوان نے لکھ کردی تھی اور اس میں بھی پانچوں ارکان کئی بار پڑھنے کے باوجود سوچتے اور دیکھتے رہے کہ ان کے ساتھ ڈاکٹر بابراعوان نے کرکیا دیا ہے؟الیکشن کمیشن میں عمران خان نے روسٹرم پرآکراپنےبیان کی وضاحت دی۔ایک باربھی یہ نہیں کہاکہ میں معافی مانگتاہوں۔عمران خان نے جو باتیں پریس کانفرنس میں کیں،اس سے سخت باتیں الیکشن کمیشن کے پانچوں اراکین کے سامنے کیں۔۔ڈاکٹربابراعوان نےآج اپنے دلائل سے الیکشن کمیشن کےپانچوں ارکان کے ہاتھ پائوں باندھ دئیےتھے۔ممبران کوسمجھ نہیں آرہی تھی کہ جائیں توجائیں کہاں؟

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…