ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

(ن) لیگ کی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران کتنے قرضے لئے، سب دعوے دھرے!!

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) گزشتہ مالی سال 2016-17کے دوران قرضوں پر سود اور اصل زر کی واپسی میں 37فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔وفاقی حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران17 ارب 80کروڑ ڈالر قرض لے کر 10 ارب 49 کروڑڈالر کا سود اور اصل زر واپس کیاہے جبکہ مشرف دور میں جاری ہونے والے یورو بانڈز کا منافع بھی گزشتہ مالی سال میں ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ مجموعی

طور پر 83 ارب ڈالر ہو چکا ہے جس میں ریاست کے ذ مہ آئی ایم ایف سمیت دیگر اداروں کے قرض کی رقوم 62.5ارب ڈالر ہیں جبکہ نیم سرکاری اور نجی شعبے کے ذ مہ بھی تقریبا20.5ارب ڈالر کے قرض ہیں ۔ مالی سال 2015 اور 2016 میں آٹھ ارب 70کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال 2016 سال 2017 میں نو ارب 10کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا اور اس کے مقابلے میں ان ہی برسوں میں بالترتیب4 ارب 42 کروڑ ڈالر اور 6ارب 7کروڑ ڈالر مختلف اداروں اور ممالک کو واپس کیے گئے ،گزشتہ مالی برس میں یورو بانڈز کی مدت معیاد پوری ہونے اور سکوک بانڈز کے منافع کی مد میں ایک ارب 11 کروڑ 60لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی جبکہ سال 2015اور 2016میں یہ ادائیگی 85 کروڑ 40لاکھ ڈالر رہی تھی ۔ 75 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز مشرف دور میں سال 2007 میں ملکی معاشی صورتحال کو سنبھالا دینے کے لئے دس سال کی مدت کے لئے عالمی مارکیٹ میں جاری کئے گئے تھے جن پر منافع کی مد میں ہر سال ادائیگی ہوتی رہی اور تاہم اب مدت پوری ہونے پر مکمل ادائیگی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ہے جبکہ چین کے مختلف قرضوں پر سود اور اصل زر کی مد میں بھی سب سے زیادہ 51 کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی گزشتہ مالی سال میں کی گئی ،نجی شعبے نے دو برس میں 3 ارب 40کروڑ ڈالر کے لئے قرض لئے جبکہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں کا حجم 6 ارب 40کروڑ ڈالر ہو چکا ہے اور یہ قرضے زیادہ تر توانائی اور تیل و گیس کے منصوبوں کیلئے لیے گئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…