منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارکا نواز شریف سے کیا تعلق ہے ، تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پانامہ فیصلے کے بعد عدلیہ پر تنقیدکا سلسلہ شروع ہوا تو جی ٹی روڈ ریلی میں بھی جاری رہا اور اب تک گاہے بگاہے اس فیصلے پر ن لیگ اورشریف خاندان کے افراد کی جانب سے عدلیہ پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ وکیل ظفر اللہ خان نے تو پانامہ کیس کو مولوی تمیز الدین کیس اور بھٹو کیس جیسا فیصلہ قرار دیا ۔

اس حوالے سے ن لیگ کی جانب سے پانامہ کیس فیصلے پر کی جانے والی تنقید پر پاکستان کے معروف صحافی اور نجی ٹی وی کے اینکر پرسن حامد میر نے نجی ٹی وی جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئےکہا تھا کہ شریف خاندان ان کے وکلا اور لیگی رہنمائوں کی جانب سے پانامہ فیصلے کو مولوی تمیز الدین اور بھٹو کو پھانسی فیصلے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور اس فیصلے کو ان فیصلوں جیسا قرار دیا جا رہا ہے جو کہ بالکل ایسا نہیں۔ نواز شریف کے معاملے میں نہ تو اسمبلی کو ختم کیا گیا نہ ہی انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔ انہوں نے ظفر اللہ خان کی جانب سے پانامہ کیس کو ضیا دور کے بھٹو کیس کے فیصلے سے ملانے پر کہا تھا کہ اس وقت کی سپریم کورٹ کے جسٹس انوار الحق کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے تین خط لکھے اور کہا کہ میرا ان کے ساتھ ذاتی عناد ہے اور میں ان کو نہیں مانتا جبکہ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار ہیں جو 1993میں نواز شریف کے وکیل تھے جب نواز شریف کی اسمبلی کو تحلیل کیا تو ثاقب نثار خالد انور کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس کے بعد نواز شریف نے ثاقب نثار کو سیکرٹری قانون بنایا اور نواز شریف کے دور میں ہی جسٹس ثاقب نثار لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس بنے۔ اس لئے جو لوگ پانامہ کیس کا ماضی کیسوں سے موازنہ کر رہے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں، ان کیسوں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…