وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے منافع کا مارجن 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق موجودہ حالات میں اس نوعیت کے اضافے پر غور نہیں کیا جا رہا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے سے سپلائی چین میں شفافیت بڑھے گی، قیمتوں کے نظام میں بہتری آئے گی اور مارکیٹ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گی۔
دوسری جانب پٹرول پمپ مالکان کی نمائندہ تنظیم اور پٹرولیم ڈویژن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے اہم اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک بھی شریک ہیں۔
اجلاس میں پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان، وائس چیئرمین عاطف بٹ اور دیگر نمائندے بھی موجود ہیں، جہاں ڈیلرز کے مطالبات اور پٹرولیم شعبے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔



















































