اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے وفاقی دارالحکومت میں داعش کا مبینہ جھنڈا لہرانے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) نے ارکان پارلیمنٹ کی کالعدم تنظیموں کے ارکان سے رابطوں کی رپورٹس کی تردید کی ہے،
کمیٹی نے سیکیورٹی ترمیمی بل منظور کر لیا، اس بل کے تحت وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور تجارتی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نہ لگانے پر ایک ماہ قید کی سزا ہو گی،کمیٹی نے اقدام خود کشی کرنے کی سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا۔بدھ کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان، وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزارت داخلہ کے افسران نے شرکت کی۔کمیٹی کے اجلاس میں برما میں مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے قرارداد رحمان ملک نے پیش کی۔ رحمان ملک نے کہا کہ قرارداد وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کمیٹی میں شریک ہوئے۔ کمیٹی نے سیکیورٹی ترمیمی بل منظور کر لیا۔بل کے تحت دکانوں اور تجارتی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نہ کگانے پر ایک ماہ قید کی سزا ہو گی۔اعظم سواتی نے کہا کہ سیکیورٹی ترمیمی بل کا مقصد شہریوں اور کاروباری طبقے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے،سینیٹر مختیار احمد دھامرا نے کہا کہ داعش کے جھنڈے وفاقی دارلحکومت میں لگ گئے، چوہدری نثار نے کہا تھا پاکستان میں داعش موجود نہیں یے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ داعش کا وجود پاکستان میں نہیں ہے،پاکستان میں 60 کالعدم تنظیموں پر پابندی ہے۔ مختیار دھامرا نے کہا کہ اسلام آباد میں داعش کے جھنڈے لگے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار داعش کی موجودگی کی تردید کرتے رہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اس کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم بنا دی گئی ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ یہ کام توجہ ہٹانے کے لئے کیا گیا،
داعش کے جھنڈے کے نیچے انگریزی زبان میں کچھ لکھا ہے،اگر ضرورت پڑی تو اسے بین کر دیا جائے گا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ احتساب عدالت کے باہر ایک صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اسکا نوٹس لیا جائے۔ہمیں احتساب عدالت کے جج نے خط لکھا ہے،احتساب عدالت میں صحافی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہمارے نوٹس میں ہے۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ آئی بی کے حوالے سے ایک خبر چلی ہے کہ کالعدم تنظیموں سے کچھ ارکان کے رابطے ہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ آئی بی نے اسکی تردید کی ہے۔