جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پرویزمشرف کو بچانے کیلئے فوج نے حکومت کوکیا پیغام دیا؟سعد رفیق نے نیا تنازعہ کھڑا کرد یا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 19  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی بطور ادارہ اور کبھی انفرادی طور پر خرابیوں میں ملوث رہی ہے، آرمی چیف اچھے سولجر ہیں چند افراد کی وجہ سے ادارے کو ملوث نہیں کرسکتے،مریم نواز کا وقت آئے گا تو ان کو پارٹی قیادت مل سکتی ہے، ،پیپلزپارٹی کی طرح نہیں کہ زرداری صاحب کی موجودگی میں نوخیز بچے کو قیادت دے دی جائے۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ جو حملہ ہم پر ہوا ہے اسے جذب کرگئے ہیں اور تدبر سے باہر نکلیں گے۔ ادارے نہیں لیکن جو افراد ملوث ہیں انکا ابھی نام نہیں لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کو جتنا روک سکتے تھے روکا لیکن جب لڑائی دیکھی تو جانے دیا۔سعد رفیق نے بتایا کہ اس وقت کی عسکری قیادت نے کہا کہ مسائل ہو رہے ہیں اس لئے پرویز مشرف کو بھیج دیں ۔ ا س سوال کہ ایسی حکومت کا کیا فائدہ جس میں آپ کو مشرف کو بھیجنا پڑا؟ جس پر سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم کوئی جذباتی بچے ہیں جو باکسنگ رنگ میں اتر کر لڑائی کرتے۔ جتنی جمہوریت ہے اتنی ہی مضبوط ہماری حکومت بھی ہے۔لاہور ضمنی انتخاب میں ہمارے لوگوں کو بلاوجہ اٹھایا گیا جس پر وزیرداخلہ اور متعلقہ فورم کو شکایت کی۔ چار گھنٹے آر او نے رزلٹ نہ دیا تو ایسا لگا کہ نتائج کہیں اور سے ہو کر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کتنے ہوں گے یہ فوج اور رینجرز کا کام نہیں ۔ایک سوال پر سعد رفیق نے کہا کہ مریم نواز کا وقت آئے گا تو ان کو پارٹی قیادت مل سکتی ہے ،پیپلزپارٹی کی طرح نہیں کہ زرداری صاحب کی موجودگی میں نوخیز بچے کو قیادت دے دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…