پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’کلثوم نواز کا کتا‘‘ مسلم لیگ(ن) کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے معافی مانگ لی!!

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے ٹوئٹ پر سخت تنقید اور طنز کے بعد وضاحتی ٹویٹ میں معافی مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ممبر صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے این اے ایک سو بیس کے الیکشن کے حوالے سے اپنی امیدوار کی محبت میں بغیر سوچے سمجھے ٹوئٹ داغ دیا۔حنا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ چاہے کلثوم نواز کھڑی ہوں یا ان کا کتا،

ہم انہی کوووٹ دیں گے، جس پر اپنے ووٹرز کی تذلیل پر مبنی اس ٹوئٹ پر ان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جس کے بعد اپنے وضاحتی ٹوئٹ اور معافی نامے میں حنا پرویز بٹ نے اس انٹرویو کی کلپ فارورڈ کی، جس کو سن کر انہوں نے یہ جملہ اپنی ٹوئٹ پر لکھا تھا۔عوام کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندے ووٹرز کی عزت کرنے کے ساتھ ساتھ بول کر نہیں بلکہ سوچ کر بولیں تو ان کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے میاں نواز شریف کو تاریخ اسلام کے ایک بد ترین کافر سے ملا دیاتھا۔اسلامی تاریخ سے نا بلد وزیر مملکت عابد شیر علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے اکائونٹ سے میاں نواز شریف کی تصویر کے ہمراہ ایک شعر لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔ پہلے للکار رہے تھے کہ کہاں ہے مرحب جب وہ میدان میں آیا تو بُرا مان گئے واضح رہے کہ ’’مرحب ‘‘ کا شمار اسلام کے بد ترین دشمنوں میں ہوتا ہے اور جنگ خیبر کے موقع پر حضرت علیؓ نے اس بد بخت کو واصل جہنم کیا تھا۔ عابد شیر علی نے اسلامی تایخ سے نا آشنائی کی وجہ سے میاں نواز شریف کو ’’مرحب ‘‘ یعنی تاریخ کا بد ترین کافر قرار دیدیا ہے، اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عوام الناس میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہےاور اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ جو اسلامی تاریخ سے نا بلد اور دشمنان اسلام کو ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ ہمارے رہنما کیسے ہو سکتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…