جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

محنت کش کی اس نوجوان لڑکی نے وڈیرے کی خواہش پوری کرنے سے انکار کیا تو ماں باپ کے سامنے اس کیساتھ کیا کام کردیا گیا؟

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں وڈیرا شاہی کی کہانیاں تو زبان زدعام ہیں ۔ وڈیرا شاہی کے عذاب میں پستے عوام صدیوں سے اس قحط زدہ نظام کے ہاتھوں پستے چلے آرہے ہیں اور اب بھی اس میں بہتری کی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔ سفید پوشوں کی نہ تو عزت محفوظ ہے اور نہ ہی ان کی جان و مال۔ اس طرح کی ایک مثال حضرت لال شہباز قلندر کے شہر سیہون

میں بھی دیکھنے کو آئی جہاں حوا کی ایک بیٹی منہ زور وڈیرے کی حیوانیت کی بھینٹ چڑھ گئی اور اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک غریب محنت کش کی بیٹی تھی ۔تانیہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہی تھی ، وہ دسویں جماعت کی طالبہ تھی ۔ اس کی حیا اور خوبصورتی اس کی اتنی بڑی دشمن بن جائے گی یہ اس کے گھر والوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ تانیہ کے رشتے کےلئے ایک مقامی وڈیرہ اس کے والدین پردباؤ ڈال رہا تھا مگرتانیہ اس رشتے کے لئے تیار نہ تھی۔ اس کے انکار نے ظالم وڈیرےکی اناکو ایسے کچوکے لگا دئیےکہ وہ مشتعل ہو گیا۔ وہ بدمعاشی اور بے حیائی کی ہر حد پھلانگتے ہوئے زبردستی لڑکی کے گھر میں داخل ہوا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔طاقت کے نشے میں چور وڈیرے نےدسویں کلاس کی طالبہ تانیہ کو اس کے والدین کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔تانیہ کے والدین اس اندوہناک سانحہ پر غم سے نڈھال انصاف کیلئے اپیل تو کر رہے ہیں مگر شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے نہ آخری اور پولیس اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ظالم کے ساتھ کندھا سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…