نواز شریف اور شہباز شریف وزیر داخلہ کے قدموں میں کیوں گرے پڑے ہیں؟

  جمعرات‬‮ 27 جولائی‬‮ 2017  |  10:37

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ چودھری نثار وزیراعظم سے اختلافات بھی رکھتے ہیں لیکن اتنی اخلاقی جرات نہیں رکھتے کہ وزارت ہی چھوڑ دیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کی مناسبت سے رکھی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ لاہور میں اتنا بڑا سانحہ ہوا مگر وزیراعظم متاثرہ خاندانوں کےپاس تو نہیں گئے البتہ غیر ملکی دورے پر ضرور چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ لاہور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد نواز شریف کا بیرون ملک دورے پر جانا اُن کی بے حسی کو


بے نقاب اور پاکستانی عوام سے عدم دلچسپی کا اظہار کرتا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔سعید غنی نے  چوہدری نثار اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی خبر گیری کے بجائے وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کے نخرے اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ چودھری نثارکو کون سے سرخاب کے پَر لگے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ شہباز شریف قدموں میں گرے جا رہے ہیں ایسا کون سا راز چوہدری نثار کے سینے میں دفن ہے؟سعید غنی نے کہا کہ چوہدری نثار میں تو اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ وہ وزارت چھوڑ دیں جب کہ نوازشریف بھی چودھری نثارسے الگ نہیں ہوسکتے کیوں کہ یہ ایک دوسرے کی کمزوریوں سے واقف ہیں۔پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ چودھری نثار وزیراعظم سے اختلافات بھی رکھتے ہیں لیکن اتنی اخلاقی جرات نہیں رکھتے کہ وزارت ہی چھوڑ دیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کی مناسبت سے رکھی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ لاہور میں اتنا بڑا سانحہ ہوا مگر وزیراعظم متاثرہ خاندانوں کے پاس تو نہیں گئے البتہ غیر ملکی دورے پر ضرور چلے گئے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎