جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

طلباء کیلئے خریدے جانیوالے 15کروڑ سے زائد مالیت کے لیپ ٹاپ خراب،نئے سکینڈل نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) محکمہ ہائر ایجوکیشن کی ناقص حکمت عملی سے سٹور روم میں پڑے 15 کروڑ سے زائد مالیت کے ہزاروں لیپ ٹاپ خراب ہونے کا انکشاف ۔ذرائع کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن کے پاس 2014 کے 8 ہزار لیپ ٹاپ سٹور روم میں موجود ہیں حکومت کی جانب سے لیپ ٹاپ کی پالیسی وضع نہ ہونے کے باعث سال 2015 اور سال 2016 میں لیپ ٹاپس تقسیم نہیں کیے گئے ذرائع کے مطابق محکمہ ہائرایجوکیشن کی جانب سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو ای روزگار سکیم کے لئے مذکورہ لیپ ٹاپ لینے کی پیشکش کی گئی تاہم

پی آئی ٹی بی کی جانب سے چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ ان میں سے 3600 لیپ ٹاپس کی بیٹریاں خراب جبکہ لیپ ٹاپس آٹ ڈیٹڈ ہو چکے ہیں۔ جس پر پی آئی ٹی بی نے خراب لیپ ٹاپس لینے سے انکار کردیا ذرائع کے مطابق محکمہ ہائرایجوکیشن کی جانب سے پی آئی ٹی بی کو فنڈز سے لیپ ٹاپس مرمت کرانے کی درخواست کی گئی مگر پی آئی ٹی بی نے فنڈز کی کمی کے باعث معذرت کرلی جبکہ محکمہ ہائرایجوکیشن کے پاس بھی لیپ ٹاپس مرمت کرانے کے فنڈز موجود نہیں۔جس کے باعث سرکاری خزانے کر پندرہ کروڑ سے زائد کے نقصان کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…