جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سجادہ نشین عیدگاہ شریف کی گرفتاری،اہم شخصیات کی معاملے میں انٹری کے بعدبات بننے کے بجائے مزید بگڑ گئی،تشویشناک انکشافات

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

حافظ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے جج جسٹس طارق مسعود سے موٹروے پرجھگڑاکرنے اوران کوخطرناک دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتارسجادہ نشین عیدگاہ شریف راولپنڈی کے بیٹے پیرحسان حسیب الرحمن سمیت5رفتارملزمان کوانسداددہشتگردی کی عدالت نے 20روزہ ریمانڈپرپولیس کے حوالے کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے جج جسٹس طارق مسعود اسلام آباد جا رہے تھے

کہ موٹر وے ایم ٹو پر تھا نہ کالیکی(حافظ آباد) کی حدود میں عید گاہ شریف راولپنڈی کے سجادہ نشین پیر نقیب الرحمن کے بیٹے پیر حسان حسیب الرحمن کی گاڑی انکی گاڑی سے ٹکرا گئی جس سے ان میں جھگڑا ہو گیااس موقع پرپیرحسان نے معززجج سے جھگڑاکیااوران کوخطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں ،پیرحسان کے مریدوں نے اس موقع پرجسٹس طارق مسعود کی گاڑی کوبھی نقصان پہنچایاجس پرپولیس نے پیرحسان سمیت 5افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیاتھااورآج ان کواے ٹی سی میں پیش کیاگیاجس پرپولیس کی استدعاپرعدالت نے ملزمان کا20روزہ ریمانڈدیدیا،ملزمان کے مقدمے کی سماعت اے ٹی سی گوجرانوالہ میں ہوئی ۔واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف 7اے ٹی اے سمیت دیگردفعات لگائی گئی ہیں جس کے تحت پولیس نے ان کے ریمانڈکی درخواست کی گئی او رعدالت نے ریمانڈدیدیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس معاملے میں سمجھوتہ کرانے اورصلح کےلئے کئی اہم شخصیات اورسیاسی رہنمامتحرک ہوگئے ہیں ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج سردار طارق مسعود اور ان کی فیملی لاہور سے اسلا م آباد آرہی تھی کہ موٹرپر کسی بات پر تنازعہ ہو ا اور پیر حسان کی گاڑی میں سوار افراد نے سپریم کورٹ کے جج کی گاڑی پر حملے کی کوشش کی ،سجادہ نشین عیدگاہ شریف کے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق جسٹس سردار طارق

مسعود اور ان کی فیملی کو ہراساں کیا گیا تھا جس پرطارق کی جانب موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن پر اطلاع دی گئی جس پر موٹر وے پولیس نے ناکہ بندی کر کے پیر حسان کو ان کے 6ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…