بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

تمام تعلیمی اداروں پر حیرت انگیز پابندی عائد کردی گئی

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی کولڈ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی، پابندی کا اطلاق گرمیوں کی چھٹیوں کے فوری بعد ہو گا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی مسلم ٹان سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل اور سائنٹیفیک پینل نے کولڈ ڈرنکس اور مشروب ساز کمپنیوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سٹیک ہولڈرز کے ممبران نے شرکت کی۔

اس موقع پر سٹیک ہولڈرز کو سکولوں میں تمام قسم کی کاربونیٹیڈ ڈرنکس پر پابندی سے آگاہ کیا گیاڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ان تمام اشیا کی سکولوں اور 100 میٹر کے احاطے کے اندر فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی گرین زون میں شامل سکولوں میں پھل، ملک شیک، فروٹ چاٹ، دودھ اور دہی سے بنی اشیا کی فروخت کی اجازت ہو گی۔ پابندی کا اطلاق گرمیوں کی چھٹیوں کے فوری بعد ہو گا۔ ڈی جی نورالامین مینگل نے تمام کولڈ درنکس اور دیگر مشروبات کے اجزا اور معیار کو دو ماہ کی مدت میں قوانین کے مطابق بنانے کی مہلت دے دیدوماہ کے اندر تمام اجزا پنجاب فوڈ سیفٹی ریگولیشن 2017 کے مطابق بنائے جائیں گے۔ مشروبات میں منظور شدہ فوڈ کلرز کا استعمال نہ کرنے پر لائسنس منسوخی سمیت سخت کارروائی کی جائے گی۔ پابندی کا اطلاق گرمیوں کی چھٹیوں کے فورا بعد سے ہو گاڈی جی فوڈ اتھارٹی نے پابندی کی وجوہات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کاربونیٹڈکولڈ ڈرنکس کے استعمال سے بچوں میں ہڈیوں سمیت جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ سکولوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی گرین زون میں شامل مصنوعات، پھل، ملک شیک، فروٹ چاٹ، دودھ اور دہی سے بنی اشیاء کی اجازت ہو گی ملاقات میںکولڈڈرنکس اور مشروبات میں مضر صحت رنگوں کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے کولڈ درنکس سمیت تمام مشروبات کے اجزا اور معیار کو قوانین کے مطابق بنانے کے لیے تمام کمپنیوں کو 2 ماہ کی مہلت دی 2 ماہ کے اندر تمام اجزا پنجاب فوڈ سیفٹی ریگولیشن 2017 کے مطابق بنانے کے احکامات جاری کئے اس حوالے سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے کہا کہ مشروبات میں منظور شدہ فوڈ کلرز کا استعمال نہ کرنے پر لائسنس منسوخی سمیت سخت کاروائی کی جائے گی ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی سربراہی میں ہونے والی ملاقات میں سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈ ریگولیشنز2017ء پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تمام قوانین پر عمل درآمد یقینی دہانی کروائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…