ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

خاموشی سے کون سا اہم ترین پاکستانی اثاثہ اسرائیل کیلئے بیرون ملک پہنچادیاگیا؟ حیرت انگیزانکشاف‎ کراچی(این این آئی) باکمال لوگوں کا ایک اور لاجواب کارنامہ، پی آئی اے پرواز کے قابل

datetime 3  دسمبر‬‮  2016 |

کروڑوں مالیت کا ایئر بس طیارہ صرف57 لاکھ روپے میں بیچ دیا۔معلوم ہوا ہے کہ یہ طیارہ جرمن عجائب گھر کو صرف 57لاکھ میں بیچاگیا ہے مالٹا میں کھڑے پی آئی اے کے طیارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فلم کی عکسبندی کی جائے گی،اس وقت یہ طیارہ مالٹا میں موجود ہے اور اس کا رنگ تبدیل کرکے اسے ایئر فرانس کے طیارے میں تبدیل کیاجارہاہے تاکہ ENTEBBE نامی فلم کے لئے جولائی 1976ء میں ہونیوالی ہائی جیکنگ کے واقعہ کو فلمایاجاسکے ۔ ہائی جیکنگ کے اس واقعے میں پاپولر فرنٹ کے فلسطینی حریت پسندوں نے تل ابیب سے پیرس جانے والی فرانسیسی ایئرلائن کے طیارے کو ہائی جیک کرکے یوگنڈامیں اتاراتھا اور پھر اسرائیلی کمانڈوز نے مسافروں اور طیارے کو بازیاب کرالیاتھا۔

جرمنی کو بیچے جانے والے طیارے کا ٹینڈر بارہ دسمبر کو کھلنا تھا مگر انتظامیہ نے بولی لگنے سے پہلے ہی من پسند پارٹی کو دے دیا، طیارے کو ملک سے باہر لے جانے کی بھی الگ الگ کہانیاں سنائیں گئیں۔ایروردیننس سرٹیفکٹ کا حامل یعنی پرواز کے قابل پی آئی اے کا ایربس طیارہ صرف 50 ہزار یورو یعنی 57 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ایروردی ہونے کی بنا پر مارکیٹ میں اس طیارے کی قیمت کئی ملین ڈالر بتائی جاتی ہے ۔ واضح رہے کہ سیٹیں ، انجن اور کار آمد پرزے نکال کر ملک میں طیارے کا ڈھانچہ 60 سے 70 لاکھ روپے میں فروخت ہوتاہے۔پی آئی اے نے اپنے چار ایربس اے 310 طیارے رواں ماہ 31 دسمبر تک گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کی فروخت کیلئے اشتہار دیا جس میں ٹینڈر کھلنے کی تاریخ 12 دسمبر ہے لیکن پی آئی اے انتظامیہ نے پیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹینڈر کھلنے سے قبل ہی من پسند پارٹی کو طیارہ فروخت کردیا۔

طیارے کی فروخت کیلئے نہ تو پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظوری لی گئی اور نہ ہی حکومت پاکستان سے اجازت۔ پی آئی اے کے قائم مقام جرمن سی ای او بریڈ ہلٹن نے اپنے ملک کے ایک عجائب گھر کو طیارہ فروخت کرنے کیلئے پاکستان کے قواعد وضوابط تک کا خیال نہیں کیا ۔پی آئی اے ترجمان نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ طیارہ کس کی کلیئرنس پر ملک سے باہر لے جایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بارے میں متعلقہ ادارے سے غلط بیانی کی گئی ہے۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…