ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

قائداعظم کاوہ رازجسے ایک ہندو نہ چھپاتا تو پاکستان کا قیام خطرے میں پڑ سکتاتھا،حیرت انگیز انکشاف

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی لیری کولنس اور ڈامینیک لیپئر کی تحریر کردہ کتاب ’’آدھی رات کی آزادی ‘‘لکھی جس کاترجمہ پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہیدسہروردی نے کیااوراس کتاب کے صفحہ نمبر92سے 94تک کی تحریربہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کتاب میں معروف صحافی انکشافات کرتے ہیں کہ محمد علی جناح سے آخری ملاقات کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سوچا کہ اگر اسی طرح سارا وقت باتوں میں گزر گیا

تو اس ملک میں خانہ جنگی کی آگ بھڑک اْٹھے گی اور انگلستان کی ساری عزت مٹی میں مل جائے گی۔اس وقت وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے اپنے چیف آف اسٹاف لارڈ اسمے کی طرف دیکھا اور اداس لہجے میں کہا کہ جس بٹوارے کو ٹالنا ناممکن ہے، کیوں نہ اس کا انتظام اور طریقہ کار مرتب کرنا شروع کر دیا جائے۔اپریل 1947 میں اگر مہاتما گاندھی، ماونٹ بیٹن یا جواہر لال نہرو کو ایک غیر معمولی راز معلوم ہوتا تو شاید ملک کے بٹوارے کو یقیناً ٹالا جاسکتا تھا۔

وہ راز فلم کے ایک ٹکڑے پر موجود تھا۔ فلم کا یہ ٹکڑا ہندوستان کی سیاست میں زبردست تبدیلی لاسکتا تھا۔ اس میں ایشیاء کی تاریخ پر لافانی نقوش قائم کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔لیکن اس راز کو اتنی احتیاط سے محفوظ رکھا گیا تھا کہ برطانوی سی آئی ڈی کو بھی، جو دنیا میں بڑی شہرت رکھتی ہے، اس کی کوئی بھنک نہ ملی۔ اس فلم پر انسانی پھیپھڑے کا ایکس رے موجود تھا۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ پھیپھڑوں کا مالک بری طرح تپ دق کا شکار ہے اور زیادہ سے زیادہ دو یا تین سال زندہ رہ سکے گا۔وہ ایکس رے فلم ایک سادہ لفافے میں بند تھی اور وہ لفافہ بمبئی کے ایک ہندوڈاکٹر جے اے ایل پٹیل کے دواخانے کی مضبوط الماری میں بند تھا۔ یہ ایکس رے محمد علی جناح کے پھیپھڑوں کا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…