جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

سانحہ کوئٹہ،چوہدری نثار طلب،بڑا قدم اٹھالیاگیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی) ایوان بالا( سینیٹ) میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنیٹرز، سینیٹر عثمان کاکڑ، سنیٹر سردار اعظم موسی خیل ، سنیٹر میر کبیر ، سنیٹر جہانزیب جمالدینی نے سانحہ کوئٹہ پر بریفنگ سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی عدم موجودگی شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 8 اگست کو سانحہ کوئٹہ رونما ہوا، حکومت کی جانب سے شہداء کے اعدادو شمار میں بھی غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے ، وزیر داخلہ بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں انہیں ایوان میں آکر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرنا چاہیے ، سینٹ نے وفاقی وزیر داخلہ کو سانحہ کوئٹہ پر بریفنگ کیلئے آج طلب کرلیا، سینیٹرزنے کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے بیرونی سرمایہ کاروں کو کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں چھوٹ دینے پر بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مقامی تاجروں کو 20 فیصد بھی چھوٹ نہیں دی جاتی، گوادر ہمارا منصوبہ نہیں بلکہ پنجاب کا منصوبہ ہے، وزیر قانون زاہد حامد نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو ٹیکس اور ڈیوٹیز میں چھوٹ دی جاتی ہے کوشش کریں گے کہ مقامی تاجروں کو بھی یہ سہولت دی جائے۔ منگل کو سینیٹ اجلاس میں سانحہ کوئٹہ پر بحث کے حوالے سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنیٹرز نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سانحہ کوئٹہ میں 103 لوگ شہید ہوئے جو کہ بلوچستان کا ایک پڑھا لکھا طبقہ تھا، حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ اس سانحے میں 65 افراد شہید ہوئے ہیں جوکہ غلط اعداد و شمار ہیں، وفاقی حکومت کہتی ہے کہ اس میں راء ملوث ہے مگر راء کو ملوث کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ،دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، وزیر داخلہ ایوان کو اس معاملے پر آگاہ کریں گزشتہ روز بھی وزیر داخلہ کی عدم موجودگی کے باعث ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا اور آج ایک مرتبہ پھر وزیر داخلہ موجود نہیں ہیں، سردار اعظم موسی خیل نے کہا کہ وزیر داخلہ بے تاج بادشاہ ہیں انہیں ایوان میں آکر تمام صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے اور چیئرمین سینٹ کو اس حوالے سے رولنگ دینی چاہیے،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سنیٹرز نے، سنیٹر کلثوم پروین کی 2 نومبر 2015 کو پیش کی گئی قرارداد کے حوالے سے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی تاجروں کو ڈیوٹیز اور ٹیکس میں رعایت نہیں دی جاتی جو کہ بلوچستان کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے، سنیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ گوادر ہمارا منصوبہ نہیں بلکہ لاہور کا منصوبہ ہے ،غیر ملکی کمپنیوں کو ڈیوٹیز اور ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے اسی طرح مقامی تاجروں کو بھی چھوٹ دینی چاہیے، سردار اعظم موسی خیل نے کہا کہ جب وفاقی حکومت کی جانب سے ایسی زیادتیاں ہوں گی تو محرومیاں کم نہیں بلکہ اور بڑھیں گی،سینٹ اجلاس میں طاہر حسین مشہدی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التواء سمیت سنیٹر میاں محمد عتیق اور سنیٹر تاج حیدر کی تحاریک التواء بھی کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…