پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں بجلی کا بحران،کوریا بھی مسئلہ حل کرنے کیلئے میدان میں آگیا

datetime 19  جون‬‮  2016 |

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے اتوار کو بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2016-17ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا شعبہ صوبے کی معاشی ترقی کے لیے اِنتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ موجودہ توانائی کے بحران نے زِندگی کے تمام شعبوں پر سنگین اثرات مرتب کئے ہیں اِس بحران کو ختم کرنے کیلئے ہماری حکومت ہر مُمکن کوشش کریگی ۔خُوش قسمتی سے بلوچستان توانائی خصوصاً مُتّبادِل توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے اس سلسلہ میں شمسی ، وِنڈاور جیو تھرمل سے وافِر توانائی حاصِل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورین کمپنی کی شراکت سے کچلاک ضلع کوئٹہ میں شمشی توانائی کا پلانٹ لگایا جائے گا۔جس سے 300میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مختلف یونیو رسٹیوں کو بتدریج شمسی توانائی کے نظام پر لایا جائیگا۔ جس پر (30 کروڑروپے ) لاگت کا تخمینہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری عمارتوں کو بھی بتدریج شمسی توانائی کے نظام پر لایا جائیگا جس پرتقریباّ (15کروڑ 70لاکھ روپے ) لاگت آئیگی۔ اِسی طرح حکومت کے ماتحت چلنے والے واٹر سپلائی اِسکیموں کوبھی شمسی توانائی پرلایا جائے گا ۔جس کے لیے ( 40کروڑ 76 لاکھ روپے ) تجویز کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے دُور دراز پچا س بنیادی صحت کے مراکز جو بجلی کی سہولت سے محروم ہے کو بھی شمسی توانائی فراہم کرنے کی تجویز ہے جس پر (24 کروڑ روپے) لاگت کا تخمینہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ سولر انرجی کے آلات کو چانجنے کیلئے ایک ٹیکنکل لیبارٹری کی تجویز ہے جس پر لاگت کا تخمینہ (ایک کروڑ روپے )ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے نے توانائی کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے اور اس وقت دو کمپنیوں نے تحریری درخواستیں جمع کرادیئے ہیں۔ مزید دو کمپنیوں سے MOUپر باتچیت جاری ہے۔ اُمید ہے آئندہ مالی سال میں توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…