پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

حلقہ این اے 110،وہی ہوا جس کی توقع تھی،عدالت نے حکم جاری کردیا

datetime 7  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کور ٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این ا ے 110 کے حوالے سے انتخابی عذرداری کے مقدمہ میں نادراکی جانب سے جمع کی گئی فورنزک رپورٹ پر وضاحت کیلئے نادرا حکام اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کوطلب کرلیا۔ منگل کوچیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سر براہی جسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس فیصل عرب پرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزارکے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ نادرا نے جو پہلی رپورٹ جمع کرائی ہے اس کے مطابق میرے موکل عثمان ڈار اور خواجہ آصف کے ووٹوں کے درمیان 21 ہزار ووٹوں کا فرق تھا ٗ 29 پولنگ اسٹیشنوں کے 30ہزار ووٹ غائب ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کے دوران اس حلقہ میں ملی بھگت سے دھاندلی کی گئی ہے جس سے حلقہ کا انتخابی مواد متاثر ہوا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے کہا کہ آپ کو عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ملی بھگت ہوئی ہے، آخر ان 29 پولنگ اسٹیشنوں کا ریکارڈ گنتی میں تو شامل کیا گیا ہوگا، اگر یہ پتا چل جائے کہ وہاں سے کون جیتا تھا تو صورتحال واضح ہو جائے گی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ مذکورہ 29 پولنگ اسٹیشنوں پر ہارنے والے امیدوار کو بھی کچھ ووٹ ضرور ملے ہوں گے جس پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ حلقہ میں الیکشن کے دوران کاسٹ ہونے والے ایک لاکھ بیالیس ہزار ووٹوں میں سے صرف 44 ہزار ووٹوں کی مکمل طورپر تصدیق ہو سکی ہے۔ جسٹس عمر عطا نے ان سے استفسارکیاکہ اگر صرف 44 ہزار ووٹوں کی تصدیق ہوئی ہے تویہ کس کا قصوربنتا ہے، ذمہ دار جیتنے والا امیدوار ہے یا انتخابی نظام۔ فاضل وکیل نے کہا کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے راجہ عامر زمان کے کیس میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پردوبارہ انتخابات کا حکم دیا تاہم بعدازاں نظر ثانی کی اپیل پر پورے حلقے کا انتخاب کا لعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا گیاہے ٗراجہ عامر زمان کیس کی طرح اس کیس میں بھی انتخابی مواد متاثر ہوا ہے، اس لئے میری استدعاہے کہ اس حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کاحکم دیاجائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی مواد کا محافظ ہے، اسے عدالت کو بتانا ہوگا کہ 29 پولنگ اسٹیشنوں کا ریکارڈ کیوں موجود نہیں سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کی عدم موجودگی پر برہمی کااظہارکیا اور واضح کیاکہ آئندہ ایسی صورتحال برداشت نہیں کی جائیگی۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے ا پنے دلائل میں عدالت کو آگاہ کیاکہ نادرا کی فرانزک رپورٹ میں ووٹرز کے دئیے گئے شناختی کارڈ نمبرزدرست نہیں ہیں، عموماً شناختی کارڈ نمبر 13ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن فزانزک رپورٹ میں 12 ہندسوں پرمشتمل نمبر دیئے گئے ہیں جبکہ تیرہویں نمبر کی جگہ xکا نشان لگایا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ شناختی کارڈ نمبر کے حوالے سے رپورٹ درست نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نادرا کو سنے بغیر رپورٹ کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ عدالت الیکشن کمیشن اور نادرا حکام کو وضاحت کے لیے طلب کر لیتی ہے۔ بعدازاں عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اور نادرا حکام کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت (آج) بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…