ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

جماعت الدعو ة اور جیش محمدجیسی تنظیموں کیخلاف قانونی کاروائی کیوں ممکن نہیں ؟ وزیر قانون نے آخر سچ بتا ہی دیا

datetime 18  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ جماعت الدعو ة اور جیش محمد جیسی جماعتوں کے خلاف قانونی کارروائی اس لیے ممکن نہیں کہ ان معاملات میں ریاست خود شامل رہی ہے۔بی بی سی کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسٹیبلشمنٹ نواز تنظیموں کے خلاف پنجاب میں کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت الدعوة اور جیش محمد جیسی جماعتوں پر اب پابندی عائد ہے انھیں کسی قسم کی سرگرمیوں کی قطعاً کوئی اجازت نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب ریاست خود کسی معاملے میں شامل رہی ہو تو اس بنیاد پر ان کالعدم تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کیسے ہو سکتی ہے؟وزیر قانون نے کہاکہ ان کی حکومت پر صوبے میں شدت پسندی سے پہلوتہی کرنے کا الزام بے بنیاد ہے ¾صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ ضرب عضب کے بعد ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنا موقف واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائےگی اور کسی بھی قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد اقدام کو وہ چاہے کسی کی مدد یا کسی کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ہو قابل قبول نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک ہی مذہبی انتہاپسندی کی کیفیت میں مبتلا ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ جنوبی پنجاب فرقہ واریت کا گڑھ ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہاکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی مذہبی جنونیت کے واقعات عام ہیں تاہم انھیں جنوبی پنجاب سے منسوب پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں کیا گیا۔جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں حالیہ آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہاکہ چھوٹو گینگ کے ہتھیار ڈالنے کے بعد آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور سرچ آپریشن کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے تاہم باقی ڈاکو دریا کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں جاری کارروائیاں ضرب عضب کا حصہ ہیں جس میں فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔پنجاب میں ضرب عضب کے تحت ملک بھر میں سب سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مقدمات قائم کیے گئے اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال باقی ملک سے بہتر ہے۔انھوں نے بتایا کہ لاہور میں گلشن اقبال میں ہونے والے دھماکے کے بعد صوبے میں دس ہزار کارروائیاں کی گئیں اور 50 ہزار سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔وزیر قانون نے اس آپریشن کے خاتمے کےلئے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں ہوں گے ¾ کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس میں چند برس اور لگیں گے۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…