اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

جماعت الدعو ة اور جیش محمدجیسی تنظیموں کیخلاف قانونی کاروائی کیوں ممکن نہیں ؟ وزیر قانون نے آخر سچ بتا ہی دیا

datetime 18  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ جماعت الدعو ة اور جیش محمد جیسی جماعتوں کے خلاف قانونی کارروائی اس لیے ممکن نہیں کہ ان معاملات میں ریاست خود شامل رہی ہے۔بی بی سی کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسٹیبلشمنٹ نواز تنظیموں کے خلاف پنجاب میں کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت الدعوة اور جیش محمد جیسی جماعتوں پر اب پابندی عائد ہے انھیں کسی قسم کی سرگرمیوں کی قطعاً کوئی اجازت نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب ریاست خود کسی معاملے میں شامل رہی ہو تو اس بنیاد پر ان کالعدم تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کیسے ہو سکتی ہے؟وزیر قانون نے کہاکہ ان کی حکومت پر صوبے میں شدت پسندی سے پہلوتہی کرنے کا الزام بے بنیاد ہے ¾صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ ضرب عضب کے بعد ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنا موقف واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائےگی اور کسی بھی قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد اقدام کو وہ چاہے کسی کی مدد یا کسی کے حق خود ارادیت کی حمایت کے لیے ہو قابل قبول نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک ہی مذہبی انتہاپسندی کی کیفیت میں مبتلا ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ جنوبی پنجاب فرقہ واریت کا گڑھ ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہاکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی مذہبی جنونیت کے واقعات عام ہیں تاہم انھیں جنوبی پنجاب سے منسوب پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں کیا گیا۔جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں حالیہ آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہاکہ چھوٹو گینگ کے ہتھیار ڈالنے کے بعد آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور سرچ آپریشن کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے تاہم باقی ڈاکو دریا کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں جاری کارروائیاں ضرب عضب کا حصہ ہیں جس میں فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔پنجاب میں ضرب عضب کے تحت ملک بھر میں سب سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور مقدمات قائم کیے گئے اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال باقی ملک سے بہتر ہے۔انھوں نے بتایا کہ لاہور میں گلشن اقبال میں ہونے والے دھماکے کے بعد صوبے میں دس ہزار کارروائیاں کی گئیں اور 50 ہزار سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔وزیر قانون نے اس آپریشن کے خاتمے کےلئے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم نہیں ہوں گے ¾ کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس میں چند برس اور لگیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…