منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

رینجرز کی تفتیش کے دوران پیپلز پار ٹی کے رہنما کی طبیعت بگڑ گئی

datetime 14  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) رینجرز نے پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل کو 5 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد رینجرز ہیڈکوارٹر سے میٹھا رام سیل منتقل کردیا۔
ذرائعکے مطابق رینجرز کی طلبی پر پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل رینجرز ہیڈکوارٹر پہنچے جہاں تفتیش کاروں نے دوران تفتیش چھبتے ہوئے سوالات کئے تو ان کی اچانک طبیعت بگڑ گئی اور وہ سرمیں درد اور بلڈ پریشر کی شکایت کرتے رہے یہی نہیں تفیش کاروں کے سوالات کے دوران وہ بار بار پانی بھی پیتے رہے جس کے بعد تفتیش روکنا پڑی تاہم مختصر وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر تفتیشی افسران نے ان سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد انہیں میٹھا رام سیل منتقل کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رینجرز کے تفتیش کاروں نے سوال کیا کہ عزیز بلوچ کو کب سے اور کیسے جانتے ہیں جس پر قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ سے قریبی تعلقات ہیں، میں اور پیپلزپارٹی کے تمام رہنما ان سے مدد لیتے رہتے ہیں، تفتیشی افسر نے کہا کہ عزیر بلوچ نے قتل، اغوا برائے تاوان میں آپ کا اور پی پی رہنماؤں کا نام لیا ہے، کیا آپ نے اسے ملک سے فرار کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جس پر قادر پٹیل نے کہا کہ عزیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے کیسے فرار ہوا اس کا مجھے کوئی علم نہیں۔
رینجرز تفتیش کاروں نے پوچھا کہ خالد شہنشاہ اور دیگر کے قتل میں کون ملوث ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا تمام معاملات دیکھتے تھے تاہم میرے عزیر بلوچ سے قریبی تعلقات ہیں لیکن خالد شہنشاہ کے قتل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ قادر پٹیل سے ایک اور سوال کیا گیا کہ عزیربلوچ کےکہنے پر کون کون سے پولیس افسران کوتعینات کرایا اور وہ پولیس افسران کون ہیں جوگینگ وارسے پیسے لیتے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے کسی پولیس افسر کو تعینات نہیں کرایا، اس وقت کے وزیرداخلہ ہی تمام معاملات دیکھتے تھے اور ایسے کسی پولیس افسر کو نہیں جانتا جو گینگ وار سے پیسے لیتا ہو۔
تفتیش کاروں نے منی لانڈرنگ سے متعلق پوچھا کہ کروڑوں روپے آپ کے رشتہ داروں کے اکاؤنٹ میں لندن اورعرب ممالک منتقل کئے گئے جس پرانہوں نے سرمیں درد اوربلڈ پریشرکی شکایت کی جب کہ اس موقع پر رینجرزکا ایک ڈاکٹر بھی موجود تھا تاہم قادر پٹیل کی طبیعت بگڑنے پر تفتیش روک دی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…