کراچی(نیوزڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسلامی تہذیبی و ثقافتی مر کز فیڈرل بی ایریا کو سینماہال میں تبدیل کر نے اور اس کی اسلامی حیثیت اور تشخص کو خراب کر نے کے حوالے سے لکھے گئے خط کو درخواست میں تبدیل کر تے ہوئے اس خط کا نوٹس لیا ہے اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ 20اپرل کو عدالت میں پیش ہوں اور اس حوالے سے اپنا جواب داخل کریں ۔سپریم کورٹ نے درخواست گزار حافظ نعیم الرحمن کو بھی اس حوالے سے اپنا مؤقف پیش کر نے کو کہا ہے ۔واضح رہے کہ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دورِ نظامت کے بعد المرکز اسلامی تہذیب و ثقافت کو سینما ہال میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں اس مر کز میں شادی ہال بھی بنا یا گیا اور اسے غیر اخلاقی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا ۔اس صورتحال پر مسلسل عوامی احتجاج کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو ایک خط روانہ کیا تھا جس میں محترم چیف جسٹس کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی کہ اسلامی تہذیبی و ثقافتی مرکز فیڈرل بی ایریا کی اصل حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہ اقدام کروڑوں مسلمانوں کی دینی حمیت و غیرت اور احساسات و جذبات کو مجروح کر نے کا باعث ہے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مرکزی علاقے فیڈرل بی ایریا کے بلاک 7 میں شاہراہ پاکستان کے کنارے واقع بلدیہ عظمیٰ کے اسلامی تہذیبی و ثقافتی مرکز کو کچھ عرصہ قبل کے ۔ایم۔ سی کے ذمہ داران نے پیسے کے لالچ میں یا دیگر نا معلوم مقاصد کے سبب ایک سینما ہال میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس عمارت کی پوری تاریخ ٗ بلدیہ عظمیٰ کا ریکارڈ اور اخبارات میں چھپنے والی خبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ عمارت ابتدا ء ہی سے اسلامی تہذیبی مرکز اور قرآن و سنہ اکیڈمی کے لئے تیار کی گئی تھی۔عمار ت کی چھت پر پانچ بڑے گنبد بنے ہوئے ہیں جبکہ دیواروں میں محرابیں بنی ہوئی ہیں۔ جو اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ مذکورہ عمارت دینی مقاصد کے لئے ہی تعمیرکی گئی تھی۔ اس ادارہ کی مرکزی عمارت پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھاجسے ظالموں نے مٹا دیا۔ ایسا کرنانہ صرف دینی لحاظ سے گنا ہ عظیم ہے بلکہ ملکی قوانین کے تحت جرم بھی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ 3؍دسمبر2015ء کو روز نامہ جنگ میں شائع ہونے والے انصار عباسی کے کالم کی نقل اور ایک دستاویزی فلم کی سی ڈی اس خط کے ساتھ آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ اس مسئلے کی پوری تفصیل سے آگاہ ہو سکیں۔ برائے مہربانی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کیجئے تاکہ کراچی کے عوام کے ٹیکسوں سے بنایا گیا اسلامی تہذیبی و ثقافتی مرکز اپنی اصل حالت میں بحال ہو سکے اور وہاں قائم سینما ہال کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔جو عاقبت نااندیش لوگ سب کچھ جانتے ہوئے اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور کلمہ طیبہ کو مٹانے کی جسارت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں ہدایت اور توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلامی مرکز کو سینما ہال بنانے پر بالآخر کارروائی ہوگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































