منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پشاورہائی کورٹ نے احتساب کمیشن کوضیاء اللہ آفریدی کے خلاف تمام ریفرنسزدائرکرنے کاحکم دیدیا

datetime 12  اپریل‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کو سابق وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کی گرفتاری کے خلاف دائر رٹ پر اس کے خلاف تما م ریفرنسز دائر کر نے اور احتساب کمیشن کی عدالت کو تمام ریفرنسز میں ایک ساتھ چارجز فریم کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے دائر رٹ نمٹا د ی۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس محمد داؤد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ احکامات درخواست گزار ضیا ء اللہ آفریدی کی جانب سے دائر رٹ پر سماعت کرتے ہوئے جاری کئے اس موقع پر درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ شمائل احمد بٹ جبکہ احتساب کمیشن کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ایم ذاہد امان عدالت میں پیش ہوئے دائر درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ کمیشن کی جانب سے ملزم کے خلاف ایک ہی نوعیت کے کیسز میں 3الگ الگ ریفرنس دائر کئے گئے ہیں جبکہ چوتھا بھی دائر کیا جا رہا ہے لہٰذاچاروں ریفرنسز کو یکجا کرکے ان کے خلاف ایک ہی چارج فریم کیا جائے جس پر فاضل دو رکنی بنچ نے وکلاء کے دالائل مکمل کرتے ہوئے دائر رٹ نمٹا دی اورخیبر پختونخوا احتساب کمیشن کو سابق وزیر کے خلاف تما م ریفرنسز دائر کر نے اور احتساب کمیشن کی عدالت کو ترمیمی ایکٹ کے سکشن 42سب سیکشن 8کے تحت کاروائی کرکے تمام ریفرنسز میں ایک ساتھ چارجز فریم کرنے کی ہدایت کر د ی جبکہ اس دوران احتساب عدالت کو کیریفرنسز کی مزید سماعت سے روکے جانے سے متعلق جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…