منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ہر ادارے میں ’’پانامہ لیگ ‘‘کے لوگ بیٹھے ہیں ،شفاف انکوائری کا امکان نہیں‘ڈاکٹر طاہر القادری

datetime 11  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہر ادارے میں ’’پانامہ لیگ‘‘کے لوگ بیٹھے ہیں، فی الحال شفاف انکوائری کا امکان نظر نہیں آرہا،وزیراعظم کی دو کمپنیوں کا الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے گوشواروں میں ذکر نہیں ہے جو قومی جرم ہے،آف شور کمپنیوں میں پڑی ہوئی دولت کے بارے میں اعداد و شمار آنا ابھی باقی ہیں،ہر طرف مایوسی اور اشتعال ہے ،عوام گھر بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے تو سیاسی گند کبھی صاف نہیں ہو گا،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے حکمت عملی طے کر لی ہے۔وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے وکلاء ونگ کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اجلاس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سربراہ عوامی تحریک نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے یوکرائن، آئس لینڈ کے وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد کرغیزستان کے سربراہ مملکت کے مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ برطانیہ میں مالیاتی امور کی نگرانی کرنے والے ادارے فنانشنل کنڈکٹ اتھارٹی نے منی لانڈرنگ اور پانامہ لیکس کے حوالے سے کارروائی کیلئے 20 بڑے کاروباری گروپس کی مدد حاصل کر لی ہے۔ باقی ممالک جن کا ذکر پانامہ لیکس میں ہوا ہے وہاں بھی کارروائی ہورہی ہے مگر پاکستان میں حکمران طبقہ اپنی معاشی دہشتگردی پر پردہ ڈالنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں لگائی جانے والی العزیزیہ سٹیل مل کو کن بنکوں نے کتنا پیسہ دیا اور پھر یہ مل کس کو کتنے پیسے میں بیچی گئی اور یہ پیسہ سعودی عرب سے لندن کن قانونی ذرائع سے پہنچا اس کے ڈاکومنٹ قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے حواری کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا اپنے بیٹوں کے کاروباری معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ دوسری طرف وہ ان سے لاکھوں ڈالر بھی لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان کی کرپشن کے ثبوت جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں مگر سٹیٹ بنک ہو یا وزارت خزانہ یا ایوان وزیراعظم ہر جگہ منی لانڈرنگ کو تحفظ دینے والے کردار بیٹھے ہیں،کارروائی کون کرے گا؟انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا ہو گا ورنہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کار ان کرپٹ حکمرانوں کے کہنے پر پاکستان میں اپنا سرمایہ نہیں لائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی راہداری ، اورنج ٹرین اور میٹرو منصوبوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ ناگزیر ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قاتل اور سفاک حکمران دولت اور اقتدار کو تحفظ دینے کیلئے کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں۔17 جون 2014 کے دن ان ظالم حکمرانوں نے 14 بے گناہوں کو شہید اور 85 سے زائد کو چھلنی کیااور آج تک اس کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آنے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے شہیدوں کے خون کے قطرے قطرے کا حساب لیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…