منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اپنے ہی بنائے ہوئے حاضر سروس جج کافیصلہ نہ ماننے والے ریٹائرڈ جج کا کیا حشر کریں گے ؟‘ رہنما پی ٹی آئی

datetime 8  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر حکومتی کشتی بھنور میں پھنس چکی ہے اور اس ناؤ کو ڈوبنے سے بچنے کیلئے کرپشن کا بوجھ اتارنا ہو گا اور قوم کو اُن چار سادہ سوالوں کا جواب دینا ہو گا جو عمران خان نے اپنے خطاب میں اٹھائے ہیں ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ عوام کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اپنے ہی بنائے ہوئے کمیشن میں نواز لیگ نے حاضر سروس جج جسٹس باقر رضوی کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اب ریٹائرڈ جج کے ساتھ کیا حشر کریں گے ؟۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام دن بدن قرضوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کے کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اگر رقوم صحیح طریقے سے بیرون ملک منتقل ہوئی ہیں تو آزادانہ تحقیقات کرانے میں کیا حرج ہے ؟۔عبدالعلیم خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کا گذشتہ 15برسوں سے یہی موقف ہے اور ہماری سیاست کا محور ہی ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ کرنا اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے عمران خان نے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں پوری قوم کی ترجمانی کی ہے اور خود کو سب سے پہلے احتساب کیلئے پیش کر کے نئی مثال قائم کرتے ہوئے مخالفین کے منہ بند کر دیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 10اپریل کو عمران خان کا قوم سے خطاب و قت کی آ واز ہے اور اسے سرکاری ٹی وی کے ساتھ سارے میڈیا پر نشر ہونا چاہیے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے اور یہ کسی وقت بھی دھڑام سے گر سکتی ہے اور وزراء کی آنیاں جانیاں اور پھُرتیاں کسی کام نہیں آئیں گی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…