بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر عاصم حسین کاوزیراعظم سے اپنے معاملے پر کمیشن تشکیل دینے کامطالبہ

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو علاج کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق کیس میں جیل حکام کو 9اپریل کےلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ دل کا مریض ہوں، مجھے مار کر چھوڑیں گے، علاج کےلئے مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، کسی بھی وقت آ کر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں، قانون سب کےلئے برابر ہے، جس طرح وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر کمیشن بنایا، میرے معاملے پر بھی بنایا جائے۔ جمعرات کو احتساب عدالت میں سابق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کرپشن کے کیس اور ان کو علاج کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے علاج فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر جیل حکام کو 9اپریل کےلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ دل کا مریض ہوں، مجھے مار کر چھوڑیں گے، علاج کےلئے مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، کسی بھی وقت آ کر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں، قانون سب کےلئے برابر ہے، جس طرح وزیراعظم نے پانامہ لیکس پر کمیشن بنایا، میرے معاملے پر بھی بنایا جائے۔کیس کی سماعت کے موقع پر ڈاکٹر عاصم کے وکیل عامر رضا نقوی نے کہا کہ میرے موکل پر فرد جرم عائد کرنے سے پہلے ہمارے اعتراضات بھی سنے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جب کوئی آرڈر پاس کرتے تو اسکی وجوہات بھی لکھی جانی چاہیئیں جو اس کیس میں نہیں لکھی گئی۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کردی اور کیس میں مفرور 3 ملزمان اطہر حسین، مسرور حیدر اور عبدالحمید کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ عدالت کے باہرصحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ بے قصور ہوں اور مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے،برابری کا تقاضا یہی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پر لگنے والے الزامات پر انہیں بھی گرفتار کیا جائے، میری کمر اور ٹانگوں میں شدید درد رہتا ہے، مجھے جیل میں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، قانون سب کےلئے برابر ہے، مجھے بھی قانونی تحفظ کا حق حاصل ہے۔واضح رہے کہ نیب نے سابق مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم پر 462 ارب روپے کی کرپشن کا کیس دائر کیا گیا تھا۔(اح)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…