بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاناما لیکس معاملے کو میڈیا کی نذر نہ کیا جائے ٗتفصیل سے بات چیت کرونگا ٗ وزیر داخلہ

datetime 5  اپریل‬‮  2016 |

راولپنڈی(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ پاناما لیکس معاملے کو میڈیا کی نذر نہ کیا جائے ٗتفصیل سے بات چیت کرونگا ۔ ایک سال میں ایک لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈز جو بلاک کیا جاچکا ہے۔راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ماضی میں نادرا سمیت پاکستان کے دیگر اداروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا ۔ گزشتہ حکومت کے آخری سال میں نادرا کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا اور تمام اداروں کو کرپشن کے ذریعے تباہ کردیا گیا تاہم ہم نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں نادرا میں موجود 2 سو سے زائد کرپٹ ملازمین کو نکال پھینکا ٗ ان میں سے بیشتر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ایک سال میں ایک لاکھ سے زائد شناختی کارڈز بلاک کئے جاچکے ہیں جن میں ہزاروں افغانیوں کے شناختی کارڈز بھی شامل ہیں اداروں میں کرپشن کسی صورت بھی قبول نہیں اور جس نے بھی شناختی کارڈ کی غلط تصدیق کی ہے وہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔چوہدری نثار علی خا ن نے کہاکہ نادرا ایک منافع بخش ادارہ ہے ٗ ہمارے دور اقتدار کے پہلے سال ہی نادرا کو 5 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور رواں سال نادرا 6 ارب روپے کے فائدے میں ہے ٗ ڈائریکٹریٹ آف پاسپورٹس بھی سرکاری خزانے میں 22 ارب روپے جمع کرائیگا ہم اس پیسے کو وزرا کی مراعات میں خرچ کرنے کے بجائے اس سے عوام کو اچھی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے ملک میں نادرا کے 5 میگا سینٹرز بنائے جارہے ہیں اور یہ میگا سینٹرز بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں گے کیونکہ پاکستان کا ہر شہری ہی وی آئی پی ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے ایک سوا ل کے جواب میں کہاکہ پاناما لیکس معاملے کو میڈیا کی نذر نہ کیا جائے بلکہ وہ پریس کانفرنس کے دوران اس پر تفصیل سے بات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…