لاہور(نیوزڈیسک )لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ یوحنا آباد کے بعد 2 افراد کو زندہ جلانے والے 20 ملزمان پرفرد جرم عائد کردی. رواں برس 15 مارچ کو لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں 2 خودکش دھماکوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد مسیحی برادری کے افراد نے مشتعل ہو کر دو افراد کو مشتبہ جان کر زندہ جلا دیا تھا۔لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد قاسم نے مذکورہ کیس کی سماعت کی.عدالت کے روبرو نشتر کالونی کی پولیس نے 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے.سانحہ یوحنا آباد میں 2 افراد کو زندہ جلانے کے واقعہ کا مقدمہ ایس ایچ او کاہنہ کی مدعیت میں سرکار کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے موبائل فون فوٹیجز، تصاویر اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے 60 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں سے بیشتر کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا تھا جبکہ 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا گیا.حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے سانحہ یوحنا آباد کے واقعہ کے 2 معصوم شہریوں کو تشدد کرکے زندہ جلا دیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی، تاہم ملزمان نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکار کردیا۔بعد ازاں عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 نومبر تک لیے ملتوی کردی.یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد مبینہ طور پر مشتعل افراد نے علاقے سے پولیس کو نکال دیا اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی، گرد و نواح کے تمام بازار بند کروا دیئے جبکہ پولیس کو جائے وقوع تک پہنچنے نہیں دیا جس کے باعث حکام کو شواہد جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مشتعل افراد نے موقع پر موجود 2 نامعلوم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ، بعد ازاں انھیں زندہ جلا دیا گیا.مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہونے افراد کی شناخت حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کے نام سے کی گئی تھی، حافظ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا جبکہ بابر نعمان ایک گارمنٹ فیکٹری کا ملازم تھا جو سرگودھا سے لاہور آیا تھا.مقتول نعیم کے بھائی سلیم نے لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ایک درخواست درج کروائی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا اور احتجاج کے دوران مشتعل افراد کے ہتھے چڑھ گیا۔
لاہور،سانحہ یوحنا آباد،20 ملزمان پر فرد جرم عائد
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
سپریم کورٹ کا این اے 251 کا فیصلہ، خوشحال خان خٹک کامیاب قرار
-
پاک فضائیہ کی بمباری , افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات
-
دہشت گردی کا خطرہ، تھریٹ الرٹ جاری
-
ماہانہ 70 ہزار روپے کمانے کا موقع ! پاکستانی نوجوانوں کے لئے بڑی خوشخبری
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
-
ٹی20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل تک رسائی کیلیے پاکستانی ٹیم کو کیا کرنا ہوگا؟
-
پنجاب اسمبلی کے ملازم کی ایم پی اے کے کمرے سے لاش برآمد
-
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان آ گیا
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں
-
موٹر سائیکل مالکان کے لئے اہم خبر
-
سرکاری ملازمین کی 89 چھٹیاں ! نئے رولز جاری کر دیے گئے



















































