ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

لاہور،سانحہ یوحنا آباد،20 ملزمان پر فرد جرم عائد

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ یوحنا آباد کے بعد 2 افراد کو زندہ جلانے والے 20 ملزمان پرفرد جرم عائد کردی. رواں برس 15 مارچ کو لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں 2 خودکش دھماکوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد مسیحی برادری کے افراد نے مشتعل ہو کر دو افراد کو مشتبہ جان کر زندہ جلا دیا تھا۔لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد قاسم نے مذکورہ کیس کی سماعت کی.عدالت کے روبرو نشتر کالونی کی پولیس نے 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے.سانحہ یوحنا آباد میں 2 افراد کو زندہ جلانے کے واقعہ کا مقدمہ ایس ایچ او کاہنہ کی مدعیت میں سرکار کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے موبائل فون فوٹیجز، تصاویر اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے 60 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں سے بیشتر کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا تھا جبکہ 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا گیا.حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے سانحہ یوحنا آباد کے واقعہ کے 2 معصوم شہریوں کو تشدد کرکے زندہ جلا دیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی، تاہم ملزمان نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکار کردیا۔بعد ازاں عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 نومبر تک لیے ملتوی کردی.یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد مبینہ طور پر مشتعل افراد نے علاقے سے پولیس کو نکال دیا اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی، گرد و نواح کے تمام بازار بند کروا دیئے جبکہ پولیس کو جائے وقوع تک پہنچنے نہیں دیا جس کے باعث حکام کو شواہد جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مشتعل افراد نے موقع پر موجود 2 نامعلوم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ، بعد ازاں انھیں زندہ جلا دیا گیا.مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہونے افراد کی شناخت حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کے نام سے کی گئی تھی، حافظ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا جبکہ بابر نعمان ایک گارمنٹ فیکٹری کا ملازم تھا جو سرگودھا سے لاہور آیا تھا.مقتول نعیم کے بھائی سلیم نے لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ایک درخواست درج کروائی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا اور احتجاج کے دوران مشتعل افراد کے ہتھے چڑھ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…