پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

لاہور،سانحہ یوحنا آباد،20 ملزمان پر فرد جرم عائد

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک )لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ یوحنا آباد کے بعد 2 افراد کو زندہ جلانے والے 20 ملزمان پرفرد جرم عائد کردی. رواں برس 15 مارچ کو لاہور میں مسیحی برادری کے اکثریتی علاقے یوحنا آباد میں قائم دو چرچوں رومن کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں 2 خودکش دھماکوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔جس کے بعد مسیحی برادری کے افراد نے مشتعل ہو کر دو افراد کو مشتبہ جان کر زندہ جلا دیا تھا۔لاہورمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد قاسم نے مذکورہ کیس کی سماعت کی.عدالت کے روبرو نشتر کالونی کی پولیس نے 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کررکھا ہے.سانحہ یوحنا آباد میں 2 افراد کو زندہ جلانے کے واقعہ کا مقدمہ ایس ایچ او کاہنہ کی مدعیت میں سرکار کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے موبائل فون فوٹیجز، تصاویر اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے 60 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں سے بیشتر کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا تھا جبکہ 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا گیا.حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے سانحہ یوحنا آباد کے واقعہ کے 2 معصوم شہریوں کو تشدد کرکے زندہ جلا دیا تھا۔سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی، تاہم ملزمان نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکار کردیا۔بعد ازاں عدالت نے گواہان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 نومبر تک لیے ملتوی کردی.یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد مبینہ طور پر مشتعل افراد نے علاقے سے پولیس کو نکال دیا اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی، گرد و نواح کے تمام بازار بند کروا دیئے جبکہ پولیس کو جائے وقوع تک پہنچنے نہیں دیا جس کے باعث حکام کو شواہد جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مشتعل افراد نے موقع پر موجود 2 نامعلوم افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا ، بعد ازاں انھیں زندہ جلا دیا گیا.مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں قتل ہونے افراد کی شناخت حافظ محمد نعیم اور بابر نعمان کے نام سے کی گئی تھی، حافظ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا جبکہ بابر نعمان ایک گارمنٹ فیکٹری کا ملازم تھا جو سرگودھا سے لاہور آیا تھا.مقتول نعیم کے بھائی سلیم نے لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ایک درخواست درج کروائی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نعیم شیشہ کاٹنے کا کام کرتا تھا اور احتجاج کے دوران مشتعل افراد کے ہتھے چڑھ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…