پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ہزاروں افرادکھلے آسمان تلے امداد کے منتظرہیں ،حافظ سعید

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر محمد سعید نے کہا ہے کہ سردی نے زلزلہ متاثرین کی مشکلات بہت زیادہ بڑھا دی ہیں،ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں، متاثرین کو خیموں، جستی چادروں، راشن، گرم کپڑوں اور کمبل وغیرہ کی اشد ضرورت ہے،جماعةالدعوة زلزلہ متاثرین کی بحالی تک ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری رکھے گی، زلزلہ متاثرین کے تباہ شدہ گھروں کا سروے کیا جارہا ہے‘ متاثرہ بھائیوں کیلئے گھروں کی تعمیر میں بھی ہر ممکن تعاون کریں گے۔ وہ جامع مسجد القادسیہ میں جماعةالدعوة لاہور کے زیر اہتمام کارکنان کی ایک تربیتی نشست سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر جماعةالدعوة لاہور کے مسﺅل مولانا ابو الہاشم ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کوخاص طور پر ان علاقوںمیںجا کر امدادی سرگرمیاں انجام دینے کیلئے کہا گیا ہے جہاں عام لوگوں کیلئے پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ باجوڑ، چکدرہ، بونیر، شانگلہ اور دیگر وہ علاقے جو زلزلہ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں وہاں ہماری پیدل ٹیمیں کندھوں پر سامان اٹھا کر متاثرین کی امداد کیلئے پہنچ رہی ہیں اور متاثرین میں خشک راشن، خیمے اور دوسری اشیائے خوردونوش تقسیم کی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جماعةالدعوة کے ہزاروں کارکنان اس وقت زلزلہ متاثرین کیلئے ریلیف و ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ تباہ شدہ گھروں کے ملبے ہٹائے جارہے ہیں اور ہماری میڈیکل ٹیمیں دور دراز علاقوں میں میڈیکل کیمپنگ کر کے متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ پوری قوم کو چاہیے کہ وہ زلزلہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے تاکہ ان کے معمولات زندگی بحال کرنے میں مدد کی جاسکے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سردی دن بدن شدت اختیا رکر رہی ہے۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں ان لوگوں کیلئے شدید مشکلات پیدا ہو چکی ہیں جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زلزلہ کے بعد متاثرین کو سردی سے بچانا بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ ملک بھر کی جماعتوں اور عوام کو آگے بڑھ کر متاثرین کی مدد کا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ ہم سب پر فرض ہے۔ انہوںنے کہاکہ پردیر، لوئر دیر، دیر پائین، تیمر گرہ، چترال، شانگلہ، گرم چشمہ، چکدرہ، مینگورہ، ثمر باغ، باجوڑ، خال، منڈا، قنمبر، میدان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں متاثرہ خاندانوں میں اب تک خشک راشن تقسیم کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اسی طرح میڈیکل کیمپنگ کر کے لاکھوں روپے مالیت کی ادویات تقسیم کی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے مختلف علاقوں سے متاثرین کیلئے امدادی سامان ، ڈاکٹروں کی ٹیمیں اور ادویات مسلسل پہنچائی جارہی ہیں۔ ہم زلزلہ متاثرہ بھائیوں کو ان شاءاللہ مصیبت کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…