بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج اور سول اداروں کی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ‘ 248 ہلاکتیں، 1665زخمی ہوئے

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور/لاہور/شانگلہ /اسلام آباد/مظفر آباد((نیوزڈیسک)پاکستان میں آنے والے شدید ترین زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں افواج اور سول اداروں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، زخمیوں اور متاثرین کو نکالنے کیلئے ہیلی کاپٹر سروس بھی استعمال کی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے .متاثرین کےلئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مشاورت کے بعد جامع پیکج کا اعلان کیا جائیگا ، متاثرین کو معاوضہ دیا جائیگا اوران مدد کیلئے انتظامات میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی،زلزلے سے اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوا ہ میں ہوئی جہاں 202 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیںجبکہ ملک میں مجموعی طور پر 248 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم مالی اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ، زلزلے کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ضروری سامان ،اشیائے خوردونوش اور ادویات بھجوائی جارہی ہیں،وزیر اعظم محمد نواز شریف نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز ملک بھر میں آنے والے زلزلے کے بعد پاک فوج اور سول اداروں کی امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق زلزلے سے صوبہ خیبر پختوانخواہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں سب سے زیادہ جانی او رمالی نقصان ہوا ہے ۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 248 جبکہ 1665 زخمی ہیں۔سب سے زیادہ صوبہ خیبر پختونخوا ہ متاثر ہوا جہاں 202 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1486 ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا ہ سے متصل قبائلی علاقوں میں کل 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں 9، پنجاب میں 5اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 2ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ مالی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا جہاں 4392 منہدم ہونے والے مکانات میں سے 3952 مکانات اسی صوبے میں موجود تھے۔این ڈی ایم اے کے مطابق نقصانات کا درست تخمینہ لگانے کیلئے سیٹلائیٹ تصاویر سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس ضمن میں سپارکو سے رابطہ بھی کر لیا گیا ہے۔ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں افواج پاکستان اور سول اداروںکا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اس میں مزید تیزی لائی گئی ہے ۔ایدھی فاﺅنڈیشن سمیت دیگر رفاعی تنظیموں کے رضا کار بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہے ۔ زخمیوں اور متاثرین کو نکالنے کیلئے ہیلی کاپٹر سروس بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان کے مطابق سب سے زیادہ تباہی مالاکنڈ میں ہوئی۔ سول اور ملٹری اہلکار متاثرہ علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ نیول چیف ایڈمرل محمد ذکا اللہ کی ہدایت پر پاک بحریہ نے بھی امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ امدادی سامان سے بھرے ٹرک بھی سوات روانہ کر دیئے گئے ہیں اور فیلڈ کمانڈرز کو تمام متاثرین تک پہنچنے کی ہدایت بھی کی



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…