ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

آئندہ 10سے15برسوں میںپاکستان کے کن شہروں کو زلزلے سے سب سے زیادہ خطرہ ہے؟رپورٹ جاری

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)ملک کے ممتاز ماہر ارضیات پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق میمن نے کہا ہے کہ یورشین پلیٹیں انڈین پلیٹوں کے نیچے گھسنے کی کوشش کررہی ہیں جس کی وجہ سے ملک کے اندر کچھ عرصے سے تواتر کے ساتھ زلزلے آرہے ہیں، آئندہ 10سے15برسوں میں مزید 7سے8 شدید ترین زلزلے آسکتے ہیں،ان زلزلوں سے لاہور ،ملتان ،اسلام آباد ،پشاور،کوئٹہ اور کراچی کو غیر معمولی خطرات لاحق ہیں کیونکہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے علاقے یورشین پلیٹوں پر ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ کے علاقے انڈین پلیٹوں پرواقع ہیں،سمندری ہواﺅں کے نتیجے میں اٹھنے والے بادلوں کے زو رسے سبڈیکشن زون میں زلزلے پیدا ہورہے ہیں،سب سے خطرناک مکران سبڈیکشن زون ہے جو سمندر کے اندر سے گذررہا ہے جس سے کراچی اوربلوچستان پرسونامی کے خطرات بھی منڈلارہے ہیں،نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی یا دیگر ملکی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ جیو لوجیکل سٹڈیز کے تناظر زلزلوں سے متعلق پیشگی اطلاع دے سکے۔ اگر تسلسل کے ساتھ جیولوجیکل سٹڈیز کی جائے تو زلزلوں سے متعلق ممکنہ طور پر پیشگی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں اور میں نے 29اکتوبر2008 کے کوئٹہ اور زیارت کے زلزلوں سے متعلق تقریبا2سال پہلے بلوچستان حکومت کو آگاہ کردیا تھا ۔پیر کوملک کے مختلف شہروں میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے ماہر ارضیات پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق میمن نے کہاکہ ہمارے خطے میں زلزلوں کے اعتبار سے تین مقام خطرناک ہیں جن میں کوئٹہ ،مظفر آباد اور ہندو کشافغانستان شامل ہیں اور حالیہ زلزلہ ہندوکش کے سرحدی مقام پر آیا جس کی زیر زمین گہرائی تقریبا214کلو میٹر ہے یعنی یہ زلزلہ اکتوبر 2005کے زلزلے سے 21گنا زیادہ گہرا تھا یہی وجہ ہے کہ اس زلزلے سے تباہی کم ہوئی ہے کیونکہ اس کے باہر آنے تک اس کا زور ٹوٹ چکا تھا جبکہ 2005کے زلزلہ کی زیر زمین گہرائی صرف 10کلو میٹر تھی جس کا زور نہیں ٹوٹا اور وہ فوراباہر آگیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ۔انھوں نے کہا کہ زلزلے ہمیشہ چاند تاریخوں کے اعتبار سے آتے ہیں ،زلزلے یا تو چاند کی پہلی تاریخ سے تین دن پہلے یا بعد میں یا پھر چاند کی 14تاریخ سے دو تین دن پہلے یا بعد میں آتے ہیں اور ابتدائی تاریخوں میں 4سے5اعشاریئے کے جھٹکوں کے زلزلے آتے ہیں جیسا کہ امسال پہلی محرم سے تین دن پہلے یہ جھٹکے محسوس کئے گئے تھے ۔انھوں نے کہا کہ سمندری ہواﺅں کے نتیجے میں اٹھنے والے بادل ہمالیہ سے ٹکراکر برستے ہیں جس کی وجہ سے توانائی کا زور تبت کے مقام کی پلیٹوں پر جمع ہورہا ہے جو زلزلوںکے اعتبار سے الارمنگ صورتحال ہے لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں زلزلوں سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان ،مظفرآباد ،اسلام آباد ،ملتان ،کوئٹہ اور کراچی میں جدید آلات اور مشینری سے آراستہ ریسکیو اسٹیشن قائم کرنے چاہئے تاکہ ناگہانی آفت کی صورت میںہنگامی بنیادوں پر اقدامات بروئے کار لائیں جاسکیں ۔انھوں نے کہا کہ مکران سبڈیکشن زون میں 28نومبر1945میں بلوچستان کے علاقے پسنی کے سمندی کنارے پر زلزلہ آیا تھا جس کی وجہ سے سونامی بھی آئی جو بلوچستان میں 25فٹ اور کراچی میں میں 15فٹ تک بلند تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…