بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

زین قتل کیس،عدالت نے فیصلہ سنادیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تمام گواہوں اور مدعی کے منحرف ہو جانے کے بعد زین قتل کیس کے ملزم مصطفی کانجو سمیت پانچوں ملزمان کو بری کر دیا ۔ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی ۔ سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ مدعی اور گواہان نے مصطفی کانجو کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا جبکہ کوئی گواہ یا شہادت موجود نہیں جبکہ گواہوں نے بھی ملزمان کو پہنچاننے سے انکار کردیا ہے لہٰذا ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا جائے ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ مصطفی کانجو، صادق، آصف رحمان ، سیف اللہ اور محمد اکرم کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کیا جائے ۔ واضح رہے کہ گاڑی کی ٹکر کے تنازع پر 16سالہ طالبعلم زین کو قتل کرنے کے الزام میں سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو سمیت 5افراد کو گرفتار کر کے یکم اپریل کو ان کے کلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مصطفی کانجو نے لاہور کے علاقے کیولری گراﺅنڈ میں گاڑی کی ٹکر کے تنازع کے بعد مبینہ طور پر اپنے گارڈ کے ہمراہ فائرنگ کی تھی جس کی زد میں آ کر نویں جماعت کا طالب علم زین ہلاک ہو گیا تھا۔تاہم زین قتل کیس میں مدعی سمیت تمام گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے تھے جبکہ عدالت کے روبرو تمام گواہوں نے مصطفی کانجو کو پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…