ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

نندی پور پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار 470میگاواٹ تک پہنچ گئی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نندی پور پاور پلانٹ نے پیر کو 470 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع کردی اور حتمی طور پر 430 میگاواٹ پر ایڈجسٹ ہوگیا۔ بجلی پیر سے ہی نیشنل گرڈ میں شامل کردی گئی اس طرح چار برس تک پورٹ قاسم پر بے کار پڑے رہنے والے پاور پلانٹ نے بالاخر پیداوار شروع کردی۔ سائٹ پر کام کرنے والے ذرائع اور اسلام آباد میں متعلقہ حکام نے اس کی تصدیق کی۔ فی الوقت بجلی گھر فرنس آئل پر چل رہا ہے لیکن آئندہ پانچ ماہ میں گیس کنورٹر پلانٹ نصب ہونے کے بعد کمبائنڈ سائیکل پلانٹ انتہائی سستی بجلی فراہم کرنا شروع کر دے گا جو تقریباً 10? روپے فی یونٹ ہوگی۔ نیپرا نے نندی پور پروجیکٹ کی فرنس آئل سے تیار بجلی کے نرخ 11.3 روپے فی یونٹ منظور کئے ہیں۔ واضح رہے کہ کے پی کے حکومت نے پن بجلی (ہائیڈرو پاور پلانٹس) کیلئے نیپرا سے 12? روپے فی یونٹ کا مطالبہ کیا ہے، نندی پور پاور پروجیکٹ کا جنم اور مشین خریداری کی لاگت کی منظوری مشرف دور میں ہوئی تھی ، ای پی سی (انجینئرنگ، پروکیورمنٹ، کنسٹرکشن) کنٹریکٹر میسرز ڈونگ فونگ کی خدمات پی پی دور میں حاصل کی گئیں۔ حکام اور ان کے سیاسی ماسٹرز کے مذموم مقاصد اور نا اہلی کے سبب پلانٹ مشینری چار سال کی طویل مدت تک پورٹ قاسم پر پھنسی رہی، پلانٹ کی تنصیب اور کامیاب تجربہ اس سال اگست میں کیا گیا مگر ملائشیا کی فرم سے آپریشن اینڈ منٹیننس (او اینڈ ایم) کا معاہدہ منسوخ ہوگیا کیونکہ وہ بہت زیادہ ریٹ طلب کررہی تھی۔ دس برس تک مردہ رہنے والا پروجیکٹ کامیابی سے نصب و ٹیسٹ ہوگیا لیکن اس کے آپریشن میں چند ہفتوں کی تاخیر کے باعث ”بڑا اسکینڈل“ بنادیا گیا۔ پروجیکٹ کے جنم دن سے ہی پلانٹ کے فیول کیلئے قدرتی گیس اولین ترجیح تھی لیکن اس کو دہرا ایندھن پلانٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ بنک سنگل فیول پلانٹ کیلئے سرمایہ فراہم کرنے پر تیار نہیں تھے، کیونکہ واحد ایندھن مثلاً گیس کی عدم فراہمی پر اپنا سرمایہ ڈوبنے کا خدشہ تھا۔ یہ طے ہے کہ فرنس آئل ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایف او ٹی پی) مطلوبہ گنجائش کی تنصیب اور پلانٹ کو مکمل فعال کرنا ای سی پی کی ذمہ داری تھی۔ ایک اہم توانائی منصوبے کو میگا اسکینڈل بنانے و الے اس حقیقت سے لاعلم تھے کہ نہ صرف ای پی سی کنٹریکٹر نے اس حقیقت کو تسلیم کیا بلکہ ایف او ٹی پی پلانٹ کی اپ گریڈیشن پر پہلے ہی کام شروع ہوچکا ہے اور بڑھوتری کا یہ عمل حکومت پاکستان کا ایک پیسہ خرچ ہوئے بغیر آئندہ تین سے چار ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ حکومت پاکستان کے پاس ای سی پی کنٹریکٹر کی 35? ملین ڈالر کی بینک گارنٹی موجود ہے جو اس نے چیچوں کی ملیاں پروجیکٹ کیلئے جمع کرائی تھی یہ منصوبہ ختم ہوچکا ہے اگر ایف او ٹی پی مطلوبہ سطح پر کام نہیں کرتا تو حکومت پاکستان اس گارنٹی کو کیش کراسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…