واشنگٹن(نیوزڈیسک)وزیراعظم نواز شریف ان دنوں سرکاری دورے پر امریکہ میں ہےں تاہم امریکی حکومت کو نواز شریف سے زیادہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے آئندہ ماہ دورے کا انتظار ہے جو انہیں پاکستان کے اہم معاملات میں فیصلہ کن اتھارٹی سمجھتی ہے۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں اعلیٰ حکام اور تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ، افغان امن عمل اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سمیت اہم سکیورٹی پالیسی کے معاملات میں ملک کے منتخب رہنماوں کی اتھارٹی کو گرہن لگا دیا ہے۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ موجودہ حالات میں سویلین ادارے کچھ معاملات پر ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تاہم جنرل راحیل شریف کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی بحالی کی وجہ سے عوام جنرل راحیل شریف کو ہیرو قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے اہم کردار کے باعث پاک آرمی کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کا حساب رکھنے والے ’ساوتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور دہشت گرد حملوں میں ہلاک شہریوں اور فوجیوں کی تعداد میں 2006 کے بعد سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔دہشت گرد حملوں میں کمی سے ملک کی اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔حال ہی میں لندن کے تھنک ٹینک ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر طرز حکمرانی کے فقدان نے پاکستان میں خلا پیدا کیا، جہاں ایک مرد مجاہد کو وسیع کردار ادا کرنے کی ضرورت تھی۔رپورٹ میں وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکمرانی منتخب عوامی حکومت اور فوجی قیادت کا ’جوائنٹ وینچر‘ ہے۔مغربی سفارتکار نے حکومت اور فوج کے اس اتحاد کو غیر مساوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد اب درحقیقت فوج کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف ان دنوں سرکاری دورے پر امریکا میں موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکی حکومت کو نواز شریف سے زیادہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے آئندہ ماہ دورے کا انتظار ہے جو انہیں پاکستان کے اہم معاملات میں فیصلہ کن اتھارٹی سمجھتے ہیں۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں اعلی حکام اور تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ، افغان امن عمل اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سمیت اہم سیکیورٹی پالیسی کے معاملات میں ملک کے منتخب رہنماﺅں کی اتھارٹی کو گرہن لگا دیا ہے۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ موجودہ حالات میں سویلین ادارے کچھ معاملات پر ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تاہم جنرل راحیل شریف کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی بحالی کی وجہ سے عوام جنرل راحیل شریف کو ہیرو قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے اہم کردار کے باعث پاک آرمی کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کا حساب رکھنے والے ساتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور دہشت گرد حملوں میں ہلاک شہریوں اور فوجیوں کی تعداد میں 2006 کے بعد سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔دہشت گرد حملوں میں کمی سے ملک کی اقتصادی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے پاک افواج کے افسر عامر رضا کون ہیں؟
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
-
20 سال پرانی گاڑی کے مالکان ہوشیار! نئی پالیسی سامنے آگئی
-
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
-
الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
-
پاکستان میں سریا کی قیمت، فی کلو تازہ ریٹس جاری ہوگئے
-
راولپنڈی،14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی اور سفاکانہ جنسی تشدد کرنے والا درندہ گرفتار
-
بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں کیا لکھا؟تفصیلات سامنے آ گئیں
-
ایف بی آر کا سسٹم عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان
-
وفاقی حکومت نے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لئے نیشنل امیگریشن پالیسی 2026 جاری کر دی
-
یو اے ای کا ویزا آن آرائیول، مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے نئی شرائط جاری
-
سونے اورچاندی کی قیمتوں میں کمی
-
پاکستان کی بڑی سائنسی کامیابی، زمینی شورِ آب میں پہلی بار لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق
-
گھر میں گھس کر 18سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی



















































