بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

پی آئی اے میں مسافروں کا سامان گم ہونا معمول بن گیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) قومی ائیر لائن (پی آئی اے) میں مسافروں کا سامان گم ہونا معمول بن گیا ہے‘ قومی ائیر لائن کی پرواز جو کہ 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد پہنچی پرواز کے اکثر مسافروں کا سامان گزشتہ ایک ماہ سے نہ مل سکا۔ مسافر اپنے سامان کے لئے ائیرپورٹ کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد آنے والی پرواز پی کے 368 کے اکثر مسافروں کا سامان گزشتہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود نہ مل سکا۔ اس سلسلے میں آن لائن کے نمائندے پی کے 368 کے مسافر سردار خان جو کہ ضلع مانسہرہ کا رہائشی ہے ان سے بات کی۔ سردار خان نے آن لائن کو بتایا کہ وہ 16 ستمبر کو جدہ سے کراچی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے پہنچا تھا اور چار دن کراچی میں قیام کے بعد پی آئی اے کی پرواز پی کے 368 کے ذریعے کراچی سے اسلام آباد 20 ستمبر کو پہنچا جب بے نظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر پہنچا تو اس سمیت اکثریت مسافروں کا سامان غائب تھا۔ سردار خان نے بتایا کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور محنت مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب میں ایک عرصہ سے مقیم ہے وہ اپنے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں سعودی عرب سے گھر آ یا تھا اور سعودی عرب سے شادی کے لئے شاپنگ بھی کی تھی۔ سامان غائب ہونے کی وجہ سے اس کو دوبارہ پاکستان سے شاپنگ کرنی پڑی۔ وہ ایک ماہ تک مسلسل مانسہرہ سے اسلام آباد ائیرپورٹ کا چکر لگاتا رہا لیکن اس کا سامان نہ مل سکا۔ اس سلسلے میں جب آن لائن نے پی آئی اے کے حکام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ مسافروں کا سامان گم ہونا معمول کی بات ہے اور ہم اکثر مسافروں کا سامان ان تک پہنچا دیتے ہیں۔ جن کا سامان نہیں مل سکا ان کے سامان کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ سامان ملنے کی صورت میں ان کو اطلاع کر دی جائے گی۔ اگر سامان نہ مل سکا تو وہ پی آئی اے سے اپنے سامان کے عوض رقم کلیم کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…