ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے پیپلزپارٹی نے اپنا ”آخری کارڈ“ کھیل دیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |
Asifa Bhutto Zardari, daughter of Pakistan's President Asif Ali Zardari, waits to hear him speak at the International Institute for Strategic Studies in London September 18, 2009. REUTERS/Stephen Hird (BRITAIN HEADSHOT POLITICS)

کراچی (نیوزڈیسک) شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے بدھ کو 18اکتوبر 2007کے کارساز سانحے کے تین شہداءکے گھروں پر جاکر ان کے ورثاءسے ملاقاتیں کیں، آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی، اس کی قیادت اور کارکنان شہداءکی قربانیوں اور ان کے ورثاءکو کبھی فراموش نہیں کریں گے، آصفہ بھٹو زرداری نے شہداءکے ورثاءسے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہیدوں کے ورثاءکو ہمیشہ مرتبے کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ ہم خود شہیدوں کے خاندان کے فرد ہیں، آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے گذری میں شہید طاہر ناریجو، منظور کالونی میںشہید ایاز اور محمودآباد میں شہید محمد رفیع کے گھر جاکر ان کے ورثاءسے ملاقاتیں کیں، اس موقع پر شہیدوں کے ورثاءنے آصفہ بھٹو زرداری کا پرجوش استقبال کیا، آصفہ بھٹو زرداری نے کچھ لمحات ان کے گھروں پر گذارے اور کہا کہ شہیدوں نے اس ملک کے عام لوگوں کے حقوق اور جمہوریت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانا دیا ہے اور وہ ہمیشہ ہماری دلوں میں رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…