کراچی(نیوز ڈیسک)اوباما انتظامیہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ امریکی اخبار ” نیو یارک ٹائمز“ کے مطا بق پاکستان کا مطالبہ ہے کہ جس طرح 2005میں امریکانے بھارت کے ساتھ سول جوہری ٹیکنالوجی کا معاہد ہ کیا تھا ویسا ہی معاہدہ پاکستان کے ساتھ بھی کیا جائے تاہم امریکا اس پر بات چیت کیلئے راضی نظر نہیں آتا لیکن امریکا جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیوں میں نرمی کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔جنگ رپورٹر رفیق مانگٹ کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے محدود کرنے پر پاکستان کے راضی ہونے کاکوئی امکان نہیں ، جوہر ی ہتھیار پاکستانی قوم کا فخر ہے اور انہیں بھارت کے خلاف حقیقی دفاع کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔اخبار کے مطابق پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر امریکی الزامات کے بعد اس عشرے میں پہلی بار پاکستان اور امریکا جوہری پروگرام پر بات چیت میں مصروف ہیں۔آئندہ ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی واشنگٹن آمد سے پہلے بات چیت کی جارہی ہے۔ بات چیت کی اصل تشویش پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیار ہیں۔امریکا کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو نصب کیے جانے کا امکان ہے جس طرح امریکا نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے حملے کو روکنے کے لئے واضح طور پر یورپ میں چھوٹے جوہری ہتھیار نصب کیے تھے۔اس بات چیت کی قیادت امریکی انٹیلی جنس ماہر پیٹر آر لیواے کی طرف سے کی جارہی ہے۔ نواز شریف کے دورے سے قبل اس طرح کے مذاکرات پر تبصرے سے وائٹ ہاوس حکام نے انکار کر دیا۔ دیگر حکام او ماہرین کے مطابق بات چیت کا مرکزپاکستان پرنیوکلیئر سپلائر گروپ کی طرف سے عائد سخت کنٹرول میں نرمی کرنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی درخواست پر پاکستان مشکل سے ہی عمل کرے۔امریکا کی پاکستان کے ساتھ جوہری پروگرام کے متعلق بات چیت کا تذکرہ ایک ہفتے قبل واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں بھی کیا گیا۔امریکی حکام نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار وں کی نگرانی سب سے زیادہ اچھی ہے اور ان کے وارہیڈ ڈلیوری گاڑیوں سے الگ ہیں لیکن امریکی حکام کو چھوٹے ہتھیاروں کے چوری ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے ساتھ امریکا کا سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہد ہ زیر بحث آ نے کا امکان نظر نہیں آتا تاہم پاکستان کے ساتھ نیوکلیئر سے متعلقہ ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں امریکا نرمی کا راستہ دیکھ رہا ہے جس سے پاکستان جوہری ہتھیاروں کے لئے ٹیکنالوجی کو امپورٹ کرسکے گا۔اخبار نے ڈاکٹر عبدالقدیر پر مبینہ الزامات کو پھر دہرایا ہے۔ اخبار کے مطابق بش انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو محفوظ بنانے اور اس پر مامور عملے کی ٹریننگ پر دس کروڑ ڈالر خرچ کیے۔
جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیوں میں نرمی کا امکان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
اسرائیل جانیوالی پرواز کے زخمی پائلٹ کا پہلا بیان سامنے آگیا، تصویر بھی جاری
-
افغانوں کے منسوخ کارڈ بحالی کیلیے 12 کروڑ لینے والا اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا گرفتار
-
پاکستانی کریئٹر کی اے آئی سے تیار کردہ فلم کے یوٹیوب پر ریکارڈ توڑ ویوز، نوجوان نے کروڑوں کما لیے
-
پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور اسلحہ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی پریشانی ختم
-
خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا
-
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی
-
انکل کو جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے؛ زیادتی کی شکار بچی کا جج سے مطالبہ
-
آئی فون 18 پرو میکس پر پاکستان میں کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟ نئی تفصیل آگئی
-
لاہور میں باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں بیٹی کے قتل کیس میں لرزہ خیز انکشافات
-
زلزلے کے باعث زمین لرز اٹھی، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے
-
حکومت نے قومی بچت سکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کردیا
-
راولپنڈی کے گھر سے دو بھائیوں کی لاشیں برآمد



















































