جمعہ‬‮ ، 10 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(اے این این) وفاقی حکومت کے حکام کے مطابق پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو کی موثر کوششوں کی وجہ سے ملک میں رواں سال پولیو سے متاثر بچوں کی تعداد میں قابل ذکر حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران اس وائرس کے پھیلا پر قابو پا لیا جائے گا۔اس پیش رفت کو نہ صرف ملکی بلکہ بین لااقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ پورے ملک اور خصوصا افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کو قرار دیا جا رہا ہے۔دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے سربراہ ڈاکٹر جین مارک اولائیو نے بھی پاکستان اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔قبائلی علاقوں سے انسداد پولیو کے لیے قائم ہنگامی آپریشن سنٹر پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوارن انہوں نے انسداد پولیو کی کوششوں کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان میں سرکاری سطح پر انسداد پولیو کے قومی ہنگامی آپریشن مرکز کے رابطہ کار ڈاکٹر رانا صفدر علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اب تک سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد میں 80 سے 85 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اگر ہم دیکھیں تو 2014 کے وسط تک ہمارے اندازے کے مطابق تقریبا چھ لاکھ بچے ایسے تھے جن تک ہم نہیں پہنچ پار رہے تھے اور ان کی تعداد ستمبر 2015 میں کم ہو کر 16 ہزار ہو گئی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پروگرام کے لیے نیک شگون ہے”۔ ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں بچوں کی ایک کثیر تعداد تک انسداد پولیو کی ٹیموں کی رسائی نہ ہونے کے باعث یہ بچے ان قطروں سے محروم رہے جاتے تھے تاہم اب اس مشکل پر قابو پا لیا گیا ہے۔دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی صرف دو ایسے ملک ہیں جہاں پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اس کی بڑی وجہ دونوں ملکوں میں سلامتی کی صورت حال کو قرار دیا جاتا ہے۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے شروع ہونے والے سکیورٹی آپریشن کے باعث ملک میں نہ صرف امن عامہ کی صورت حال بہتر ہوئی ہے بلکہ اس سے انسداد پولیو کی مہم میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…