ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کاسردارایازصادق کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں فریق بننے کااعلان

datetime 7  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے این اے 122 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور استدعا کی ہے کہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دیا جائے،27 لاکھ روپے جرمانے کو بھی فوری معطل کیا جائے۔سردار ایاز صادق کی جانب سے سپریم کورٹ رجسٹری میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے این اے 122 کا فیصلہ میرٹ سے ہٹ کر کیا اور ووٹرز کا حق رائے دہی ختم کیا،ایاز صادق کا موقف نہیں سنا گیا ، عمران خان کی انتخابی عذرداری کے ناقابل پذیرائی ہونے کا نقطہ بھی طے نہ کیا، اپیل میں مزید کہا گیا کہ ٹریبونل نےسماعت کے دوران ہر درخواست کو زیر التوا رکہا، اپیل کے مطابق کسی انتخابی بے ضابطگی کی بنیاد پر الیکشن کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا ،اپیل میں27 لاکھ روپے جرمانے کی رقم عمران خان کو ادا کرنے کیخلاف حکم امتناعی دینے اور انتخابی نتائج کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو غیرقانی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے دوسری طرف تحریک انصاف نے سردارایازصادق کی طرف سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پرتحریک انصاف نے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کافیصلہ کیاہے ۔تحریک انصاف کے مطابق پی ٹی آئی ملک کی دوسری بڑی جماعت ہے اوروہ ن لیگ کوالیکشن سے بھاگنے نہیں دےگی ۔اس بات کااعلان تحریک انصاف کے رہنماچوہدری محمدسرورنے دیگررہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف ایازصادق کے مقدمے میں فریق بننے کے لئے پیٹیشن دائرکرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…