پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اختلافات شدت اختیا ر کر گئے

datetime 12  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کسی بھی وقت تحریک انصاف کو چھوڑ کر حکمران جماعت کے اتحاد کا حصہ بننے کیلئے تیاری کر چکی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن جماعت اسلامی کو اپنا فطری اتحادی سمجھتی ہے اور اس وقت حکمران جماعت سراج الحق اور دیگر اہم رہنماﺅں سے قریبی رابطے میں ہے۔ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ برس بھی اختلافات شدید تر ہو گئے تھے اور اس وقت عمران خان اور سراج الحق کی ون ٹو ون ملاقات نے تمام غلط فہمیوں کو وقتی طور پر دفن کر دیا تھا البتہ دونوں جماعتوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ہر پارٹی اپنی اپنی پالیسی اور آزاد رائے رکھتی ہے۔ حالیہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن نے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ایک بار پھر ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کا اقتدار چھوڑ کر وفاقی اقتدار میں شامل ہو سکتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہاا بتدائی طور پر جماعت اسلامی کو دو وزراتوں کی پیشکش کی جا چکی ہے اور مذاکرات کے بعد اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 13 مئی 2013ءکے انتخابات کے وقت بھی مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی اتحاد کیلئے مذاکرات کرتی رہی ہیں مگر دونوں طرف سے چند نکات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث یہ اتحاد نہ بن سکا اور جماعت اسلامی تحریک انصاف کی جھولی میں جا گری اور دونوں نے خیبرپختونخوا میں مل کر حکومت بنائی۔ البتہ بلدیاتی الیکشن نے جماعت اسلامی کو مسلم لیگ ن کے قریب تر کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقے اس مجوزہ اتحاد کو بہت اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ اس اتحاد سے عمران خان اور پرویز خٹک کیلئے مزید سیاسی مسائل پیدا ہونگے اور مسلم لیگ ن ایک بار پھر مولانا فضل الرحمٰن کے بعد جماعت اسلامی کو بھی اپنے پلیٹ فارم پر لے آئے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق جب وفاقی حکومت کا حصہ ہونگے تو یقیناً یہ اتحاد کے پی کے حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے بجٹ کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی سے شریک اقتدار کا فارمولا طے پا جائے گا۔



کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…