ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

ایاز صادق کو معطل نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن کے لیگل ونگ کی رائے

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے لیگل ونگ نے چیف الیکشن کمشنر کو پی ٹی آئی چیف عمران خان کے اسپیکر اسمبلی ایاز صادق کو معطل کرنے کے مطالبے کے متعلق اپنے “انکار” سے مطلع کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ قانونی ماہرین کی جانب سے مشورہ ملنے کے بعد الیکشن کمیشن جلد ہی باضابطہ طور پر کیس کا فیصلہ کردے گا کہ وہ قانون کے تحت قومی اسمبلی کے اسپیکر کو عمران خان کی دائر کردہ درخواست کے تحت معطل نہیں کر سکتا۔ عمران خان کی تحریری درخواست ملنے پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) رضا خان نے یہ معاملہ ادارے کے لیگل ونگ کو بھجوایا تھا جس نے اب اپنا مشورہ چیف الیکشن کمشنر کو دیدیا ہے۔ ذریعے کے مطابق، اپنے مشورے میں لیگل ونگ نے قرار دیا ہے کہ قانونی اور آئینی طور پر ایسی کوئی شق دستیاب نہیں ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن یا پھر چیف الیکشن کمشنر کسی بھی فریق سے شکایت موصول ہونے پر پارلیمنٹ کے کسی رکن کو معطل کریں۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت الیکشن ٹریبونل کی سفارش پر ایک شق ہوا کرتی تھی جس کے تحت الیکشن کمیشن کو یہ اختیار تھا کہ وہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کر سکتا تھا۔ لیکن مذکورہ شق میں ترمیم کردی گئی اور اب ایسے اختیارات صرف الیکشن ٹریبونل کے پاس ہیں۔ عوامی نمائندگی کے قانون میں اس طرح کی ترمیم سے قبل، اس قانون کے سیکشن 67 میں یہ بات شامل تھی: ” الیکشن ٹریبونل میں کسی منتخب رکن یا پھر اس کا مختار کار کے کیس کی سماعت میں تاخیر کی صورت میں الیکشن ٹریبونل چیف الیکشن کمشنر کو یہ سفارش کر سکتا ہے کہ سماعت یا کارروائی کے مکمل ہونے تک مذکورہ امیدوار کو کام کرنے سے روک دیں یا پھر جتنا عرصہ الیکشن کمیشن چاہے مذکورہ امیدوار کو اپنے عہدے پر کام کرنے سے روک سکتا ہے۔” حتیٰ کہ مذکورہ شق کے تحت بھی کمیشن اس بات کا پابند تھا کہ وہ الیکشن ٹریبونل کی سفارش پر عمل کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2009ء میں قانون کی اس شق میں ترمیم کی گئی جس کے تحت الیکشن ٹریبونل کو براہِ راست اختیار دیدیا گیا کہ وہ تاخیر کی صورت میں منتخب امیدوار کو معطل کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ سخت شرط بھی عائد کی کہ ایسی صورت میں مذکورہ امیدوار کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنا ہوگا اور اسے جواب دینے کیلئے 15 دن کا وقت دینا ہوگا۔ یہ موجودہ نافذ العمل شق کہتی ہے کہ: ” منتخب امیدوار یا اس کے مختار کار کے کسی اقدام کی وجہ سے سماعت میں تاخیر کی صورت میں ٹریبونل بذات خود یا پھر متاثرہ فریق کی درخواست پر مذکورہ منتخب امیدوار شو کاز نوٹس کے اجراء کے بعد اسے 15 روز کا وقت دے گی کہ وہ جواب پیش کریں، یہ فیصلہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ منتخب رکن پارلیمنٹ اپنے عہدے سے اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک معاملے کی سماعت مکمل نہیں ہوجاتی یا پھر کوئی بھی ایسا وقت جس کا تعین ٹریبونل کرے۔” پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے حال ہی میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی اس وقت تک معطلی کا مطالبہ کیا تھا جب تک الیکشن ٹریبونل این اے 122 میں ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلی کا فیصلہ نہیں کرلیتا۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی چار درخواستوں میں ہونے والی تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا تھا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اصرار کیا تھا کہ وہ ان معاملات کے فیصلے جلد کرانے میں اپنے اختیارات استعمال کرے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے چیف الیکشن کمشنر کو 2013ء کے عام انتخابات میں ہونے والی زبردست دھاندلی کے حوالے سے بھی اپنی پارٹی کی تشویش سے آگاہ کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد الیکشن کمشنر نے تمام الیکشن ٹریبونلز کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر ضروری تاخیر کے بغیر جلد الیکشن پٹیشنز کی سماعت کریں۔ عمران خان نے الیکشن کمشنر سے اس وقت ملاقات کی جب دو روز قبل لاہور کے الیکشن ٹریبونل نے این اے 122 کے ریکارڈ کی پڑتال کرنے والے انکوائری کمیشن کے خلاف کارروائی کی پٹیشن مسترد کردی تھی۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے حلقے کے کچھ پولنگ اسٹیشنوں کے ریکارڈز کی از سر نو جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا تھا۔ اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے ٹریبونل ممبر کاظم علی ملک نے کہا تھا کہ فی الوقت پی ٹی آئی لیڈر کی جانب سے دوبارہ جان پڑتال کا مطالبہ کرنا قبل از وقت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…