اسلام آباد (این این آئی)وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے تین سالوں کے دوران 39ہزار 786مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
جاری دستاویز کے مطابق وفاقی 2023میں لیبیا کشتی حادثے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے سخت اسکروٹنی کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ملک بھر کے تمام ایئرپورٹس پر مسافروں کی سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکروٹنی کے عمل کے دوران ایف آئی اے نے مختلف ایئرپورٹس سے 39ہزار 786شہریوں کو آف لوڈ کیا، جن میں سے20ہزار 408کو ضروری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے آف لوڈ کیا گیا۔دستاویز کے مطابق یہ ایسے لوگ تھے جن کے پاس ان کے سفرکیلئے مطلوبہ دستاویزات مکمل نہیں تھیں، اسی طرح لو پروفائل اور مشکوک ٹریول پلان کی وجہ سے 12,673لوگوں کو آف لوڈکیا گیا۔ایف آئی اے کے مطابق یہ ایسے لوگ ہیں جن کے مالی حالات ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ وہ سفرکریں مثال کے طورپر کئی ایسے لوگ بھی تھے جو کہیں یومیہ اجرت یا مزدوری کرتے ہیں اور پہلے کبھی کسی ملک کا سفرنہیں کیا تھا۔ایف آئی اے کے مطابق ایسے افراد کا عمرہ ادائیگی، ترکیہ، دبئی یا تھائی لیںڈ سیر کیلیے جانے پر شکوک و شبہات تھے جس کی وجہ سے انہیں روانگی سے روکا گیا۔
دستاویز کے مطابق اسی طرح ایف آئی اے نے 3450 لوگوں کو آف لوڈ کیا، جن کے نام اسٹاپ لسٹ میں تھے یا پھر انٹرپول نے ان کے سفر کرنے پر قدغن لگارکھی تھی۔دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے نے غلط سفری روٹ ہونے کی وجہ سے 505 لوگوں کو آف لوڈ کیا،اسی طرح جعلی دستاویزات ہونے کی وجہ سے مختلف ایئرورٹس سے 281 لوگوں کو آف لوڈ کیا گیا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق یہ ایسے لوگ تھے جن کے پاس جعلی ویزہ تھا یا اگرویزہ اصلی تھا تو ان کی نوکری کا اجازت نامہ جعلی تھا یا ایسی ہی کوئی دستاویز جعلی تھی۔ایف آئی اے نے غیرمطمئن ٹریول ہسٹری کی بنیاد پر 176 لوگوں کو آف لوڈ کیا جبکہ دستاویزات کی تصدیق کیلئے 145 لوگوں کو آف لوڈ کیا ،کم عمری کی بنیاد پر 258 لوگوں کو آف لوڈ کیاگیا، جبکہ وزٹ ویزے پر نوکری کی تلاش میں جانے والے 24 مسافروں کو بیرون ملک روانگی سے روکا گیا۔



















































