پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے، عمران خان

datetime 2  ستمبر‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)بانی پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں۔اڈیالہ جیل کے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دو نئی انٹریاں ہونے والی ہیں، ایک انٹری اس یوٹرن پر ہوگی جس میں ووٹ کو عزت دو کا کہہ کر بوٹ کو عزت دی گئی، نواز شریف اڑھائی سال تک ووٹ کو عزت دو کا کہتے رہے، فوج اور مارشل لا پر تنقید کرتے رہے۔

عمران خان نے بتایا کہ خواجہ آصف نے فوج کو جتنا برا بھلا کہا کسی نے نہیں کہا، احسن اقبال نے پہلی مرتبہ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کا بتایا تھا، احسن اقبال نے فوج سے متعلق کہا تھا کہ یہ ریاست کے اندر ریاست ہے، احسن اقبال یہ بھی کہتے رہے کہ پاکستان میانمار بننے جارہا ہے۔سابق وزیر اعظم کے مطابق جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے تویہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں، 9 مئی ان کی انشورنس پالیسی ہے، 9 مئی ختم ہوا تو ان کی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائی گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں، 9 مئی کی تحقیقات کرنی ہے تو اس کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، مجھے اغوا کرنے کا جس نے حکم دیا اور جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی 9 مئی کی سازش اسی نے کی ہے۔انہوںنے کہا کہ گنیز بک میں دوسری انٹری اس پر ہوگی کہ نواز شریف چاروں امپائروں کو ساتھ ملا کر کھیلا پھر بھی ہارگیا، دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا، نواز شریف کو جتوانے کے لیے 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے، پٹن کی رپورٹ ہے کہ یاسمین راشد سے جتوانے کے لیے نواز شریف کو 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔

مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے ، ہم بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، بات چیت کو کبھی نہ نہیں کی لیکن بات ان کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں، جو ان کو لے کر آئے ہیں، حکومت سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے۔جلسے سے متعلق بتاتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں، ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے، دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانا ہے اور تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے، مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کے لیے عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا، اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں، پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ میں اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا جہاں میں پہنچا ہوں، پاکستان میں سب سے بڑا سماجی کارکن میں ہوں، ہم نے دو ہسپتال بنائے، دو یونیورسٹیاں بنائیں اور ایک یونیورسٹی بن رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…