جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں کی زندگی میں 7 سال تک کمی متوقع

datetime 30  اگست‬‮  2023 |

شکاگو(این این آئی)شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ای پی آئی سی) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان بالخصوص لاہور، شیخوپورہ، قصور اور پشاور میں فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح سے پاکستانیوں کی عمر ممکنہ طور پر کم از کم سات سال تک کم ہو سکتی ہے۔ایئر کوالٹی لائف انڈیکس (AQLI) میں پیش کردہ یہ تازہ ترین مطالعہ ہوا کے معیار میں بہتری کے اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

ایئر کوالٹی لائف انڈیکس ایک جامع آلودگی کا اشاریہ ہے جو متوقع زندگی پر ذراتی فضائی آلودگی (دھول مٹی) کے اثرات بیان کرتا ہے۔پاکستان میں، ذراتی آلودگی صحت عامہ کے لیے دوسرے سب سے بڑے خطرے کے طور پر شمار ہوتی ہے، پہلے نمبر پر دل کی بیماریاں ہیں،یہ آلودگی سے متوقع عمر اوسطاً 3.9 سال تک کم کرتی ہے۔رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی ان خطوں میں رہتی ہے جہاں سالانہ اوسط ذراتی آلودگی کی سطح عالمی ادارہ صحت (WHO) کی گائیڈ لائن سے زیادہ ہے۔چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ 98.3 فیصد پاکستانی ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو ملک کے اپنے 15 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر کے ہوا کے معیار سے نیچے ہیں۔مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی تجویز کردہ سالانہ 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کی حد پر عمل کیا جائے تو اوسط عمر 3.9 سال تک بڑھ سکتی ہے۔

ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کے اعداد و شمار 1998 سے 2021 تک پاکستان بھر میں اوسط سالانہ ذرات کی آلودگی میں پریشان کن 49.9 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے متوقع عمر میں 1.5 سال کی کمی واقع ہوئی ہے۔پنجاب، اسلام آباد، اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہیں، جن کے 65.5 ملین عوام جو پاکستان کی آبادی کا 69.5 فیصد ہیں، ڈبلیو ایچ او کے رہنما خطوط کے مطابق عمر کے اوسطاً متوقع 3.7 سے 4.6 سال سے محروم ہونے کے راستے پر ہیں۔اسی طرح، اگر آلودگی موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہے تو لوگوں کی عمر 2.7 سے 3.6 سال تک کم ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں ایک امید کی کرن بھی فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے آلودگی کے معیارات حاصل کرنے سے متوقع عمر میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس سے کراچی کے رہائشیوں کو 2.7 سال جبکہ لاہور اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو بالترتیب 7.5 اور 4.5 سال کا فائدہ ہو سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…