جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

صحافیوں، ججز سمیت سب کیلئے یہی پیغام ہے جھوٹ بولنا چھوڑدیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

datetime 23  اگست‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ججز کا کام صحافیوں سے مختلف نہیں ہے، صحافیوں اور ججز سمیت ہر انسان کے لیے یہی پیغام ہے کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے مطابق معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، ذمہ دارانہ صحافت وقت کی اہم ضرورت ہے، میڈیا کا بنیادی کام درست معلومات لوگوں تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی اس لیے معلومات اکٹھی کرتے ہیں تاکہ آگے لوگوں تک پہنچا سکیں، اس میں کچھ اچھی باتیں سامنے آتی ہیں اور کچھ بری، بری باتیں سامنے آنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے یہ باتیں رک جاتی ہیں، اچھے باتیں سامنے آتی ہیں تو دوسروں کو اچھائی کی جانب بڑھنے کے لیے راغب کرتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ججز کا کام صحافیوں سے مختلف نہیں ہے، ہم دونوں سچ کی تلاش میں نکلتے ہیں، جج آئین و قانون کے دائرہ کے تحت چلتا ہے، انصاف کے حوالے سے لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے لیکن سچ سچ ہی رہتا ہے، رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے سچ سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا۔قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف کیمرہ اٹھا لینے سے یا ٹی وی پر آجانے سے کوئی صحافی نہیں بن جاتا، صحافی وہ ہوتا ہے جو تحقیق کرتا ہے، قرآن مجید اور اس سے پہلے کی مقدس کتابوں میں بھی سچ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ۖ نے فرمایا کہ مومن بزدل یا کنجوس تو ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا، ایک شخص نے آکر حضرت محمد ۖ سے سوال کیا کہ میں شراب پیتا ہوں، زنا کرتا ہوں اور جھوٹ بولتا ہوں، آپ کی خاطر ایک چیز چھوڑ سکتا ہوں، جواب ملا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔انہوںنے کہاکہ صحافیوں اور ججز سمیت ہر انسان کے لیے یہی پیغام ہے کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں، ہر موقع پر صرف سچ بولیں۔انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنا بڑا مشکل کام ہے، اگر آپ جھوٹ بولتے ہیں تو آپ کو یاد رکھنا پڑتا ہے کہ آپ نے کس سے کیا بولا تھا، سچ بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ سچ بول کر یاد نہیں رکھنا پڑتا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…