جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افواج پاکستان کا تمسخر اڑانے پر عدالت میں کیس چلے گا، 2 سال کی قید اور 5 لاکھ تک کے جرمانے کی سزاؤں کا قانون منظور

datetime 7  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے چار ارکان کی مخالفت کی باوجود کے کرمنل لاء ترمیمی بل کثرات رائے سے منظور کر لیا، مجوزہ بل کے مطابق افواجِ پاکستان کا تمسخر اڑانے پر سول عدالت میں کیس چلے گا، قانون میں 500 اے کی شمولیت کسی دوسرے قانون سے متصادم نہیں۔ بدھ کو راجہ خرم شہزاد

نواز کی زیرِصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں رکنِ قومی اسمبلی امجد علی خان کی طرف سے کرمنل لاء ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر غور کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے حکومت کی حمایت کر دی کمیٹی کے چیئرمین نے بل پر ووٹنگ کرائی جس پر کمیٹی کے 10 میں سے 4 ارکان نے بل کی مخالفت کی اور اس طرح کمیٹی میں بل منظور ہو گیا۔وزارتِ داخلہ کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارتِ داخلہ مجوزہ قانون کی توثیق کرتی ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی امجد علی خان نے کہا کہ مجوزہ بل کے مطابق افواجِ پاکستان کا تمسخر اڑانے پر سول عدالت میں کیس چلے گا، قانون میں 500 اے کی شمولیت کسی دوسرے قانون سے متصادم نہیں، ملک میں ففتھ جنریشن وار ہو رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج اور ان کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف 2 سال کی قید اور 5 لاکھ تک کے جرمانے کی مجوزہ سزاؤں کے قانون کی منظوری دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنے قوانین پر خود عمل درآمد کراتی ہے، کے پی حکومت نے مجوزہ قانون پر کسی دلیل کے بغیر اعتراض کیا ہے، فاٹا میں سرحد سے پار فوج اور اداروں کے خلاف بات ہوتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ یہ قانون سیاسی انتقام کیلئے استعمال ہو گا، اداروں پر

نیک نیتی سے کی گئی تنقید بھی اس قانون کے دائرے میں آئے گی، آپ آزادی رائے پر قدغن لگا رہے ہیں، ہم کیوں مقدس گائے بنا رہے ہیں؟ آپ پارلیمنٹ اور ہمارے اداروں سے زیادتی کر رہے ہیں، پاکستان کے 22 کروڑ عوام میں 2 فیصد لوگ بھی اداروں کے خلاف نہیں، ہم اپنے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔مسلم

لیگ (ن)کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شہری کیوں پاکستانی اداروں کو جان بوجھ کر اشتعال دلائیں گے؟ اس بل میں ادارے کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے۔امجد علی خان نے کہا کہ احتجاج کرتا ہوں کہ میرے بارے میں کہا گیا کہ یہ ذاتی تشہیر کیلئے قانون تجویز کیا، فوج کے مسائل کے حل کیلئے ہمیں کچھ کرنا چاہیئے۔

مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ اس قانون کو متعارف کروایا ہی کیوں جا رہا ہے؟ اس قانون کو متعارف کروانا یہ بتانا ہے کہ اداروں کو اشتعال دلایا جا رہا ہے۔وزارتِ قانون کے نمائندے نے کہا کہ آرٹیکل 19 آزادی اظہار سے متعلق ہے، مگر اسے قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے، سیکشن 500 میں ہتکِ عزت کی کارروائی ہے،

اس مجوزہ قانون کے متوازی غداری کا کیس ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومت کرتی ہے۔وزارتِ داخلہ کے نمائندے نے کہا کہ وزارتِ داخلہ اس مجوزہ قانون کی توثیق کرتی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ بہت اہم بات ہو رہی ہے، وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ ایک پیج پر نہیں، اس بات کا موازنہ ہونا چاہیے کہ آئین و قانون میں مسلح

افواج کو تحفظ دینے والے قوانین کون سے ہیں، اگر آئین و قانون میں پہلے سے قوانین موجود ہیں تو یہ قانون اداروں کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی۔امجد علی خان نے کہا کہ یہ قانون کسی کے خلاف نہیں لایا جا رہا۔پرویز ملک نے کہا کہ ہم اس قانون کی مخالفت نہیں کرتے لیکن اس کو فیئر کرنا چاہتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ قانون بیرونِ

ممالک بیٹھے لوگوں پر لاگو نہیں ہوگا، ممبر کنفیوژہیں، یہ قانون اس ملک کے شہریوں پر نافذ ہونا ہے۔چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے سوال کیا کہ اس بل کو فارغ کرنا ہے یا اس کو مسترد کرنا ہے؟رکنِ کمیٹی ندیم عباس نے کہا کہ 3 صوبوں نے اس قانون پر جواب نہیں دیا، 1 نے مخالفت کی، وزارتِ داخلہ نے متعلقہ اداروں سے بھی پوچھا کہ شکایت کنندہ کون ہوگا۔امجد علی خان نے کہا کہ مجھ سے زیادہ ملک وفوج کا کوئی وفادار نہیں، اس پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیئے، ہم اپنے ہی اداروں کو خود متنازع بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…