منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

غیر قانونی پٹرول پمپس کیخلاف کارروائی صرف دکھاوا حکومتی دعوئوں کا بھانڈا پھوٹ گیا

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک بھر میں غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی میں بڑے طاقتور پمپس مالکان کو چھوڑ دیا گیا ۔ بڑے بڑے آئل مافیا گرفت میں نہ آسکے ۔روزنامہ نوائے وقت میں قاضی بلال کی شائع خبر کے مطابق ڈی سی اوز اور ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کی

ملی بھگت سے بڑے غیر قانونی پمپس کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لائی گئی ۔کم سیل والے دوردراز کے علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں ۔ مجموعی طورپر ملک بھر میں نو سو سے زائد پمپس کو سیل کیا گیا اور وہاں موجود اربوں روپے سے زائد کا پٹرول قبضے میں لیاگیا ہے۔ ڈی سی اوز کی سرپرستی میں آئل مافیا مزید مضبوط ہوگیا ہے۔ تیل کمپنیاں اب بھی غیر قانونی کنٹریکٹرزکے ذریعے چوری کر رہی ہیں۔ سمگل شدہ پٹرول کو مکس کر کے اب بھی فروخت ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دوردراز کے علاقوں میں پمپس پر چھاپے مارے گئے ہیں جہاں سیل انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس وقت بھی ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کی چاندی ہے کیونکہ یہی شعبہ پٹرول پمپس کو تیل بیچنے کیلئے اجاز ت دیتا ہے۔ سیل کئے گئے پمپس مالکان بھی شدید پریشان ہیں کہ لائسنس کا حصول کیسے ممکن ہوگا ۔ جن کمپنیوں کو مارکیٹنگ لائسنس جاری نہیں ہیں ضلعی حکومتیں اور ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے یہ غیر قانونی پمپس لگائے گئے تھے اسوقت بھی

شہروں میں اسی طرح پمپس کی سیل جاری ہے، ملک بھر میں حکمران جماعت کے لوگوں کے پمپس چل رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اوگرا قانون کے مطابق جس پٹرول پمپ تیل کی رسیدہوگی صرف وہیں پر ہی تیل اتارا جائیگا یعنی تیل کمپنیاں کسی دوسرے پمپ پرتیل نہیں اتار سکتی مگر

اس پر بھی کافی عرصہ سے عمل نہیں ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کے صرف دو دفاتر کھلے ہیں ۔اسلام آباد اور ملتان کے دفاتر کے علاوہ سارے دفاتر بند پڑے ہیں ۔ گھروںمیں بیٹھ کر ضلعی حکومتوں کے ساتھ ملکراسی طرح کام جاری رکھا ہوا ہے۔ کابینہ کو نامکمل رپورٹ دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…