منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

مندر جلانے کا واقعہ ، چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا حکومت کا ردعمل بھی آگیا

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے 5 جنوری کو کرک میں مندر جلانے کا کیس سماعت کیلئے مقرر کر تے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کو 4 جنوری کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس

گلزار احمد نے 5 جنوری کو کرک میں مندر جلانے کا کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے چیف جسٹس کی اقلیتی حقوق کیلئے ایک رکنی کمیشن بنانے کی بھی ہدایت کی ۔چیف جسٹس گلزار احمد نے مندر جلانے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس سے پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین رمیش کمہار نے ملاقات کی ،اعلامیہ کے مطابق رمیشن کمہار نے کرک میں مندر جلانے کے واقع سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا، چیف جسٹس نے مندر جلانے کے واقع پر تشویش کا اظہار کیا۔دریں اثناوفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے واقعے کو اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔کرک میں مندر کو آگ لگانے اور مسمار کرانے کے معاملے پر اپنے ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے واقعے کو اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔ فواد چوہدری نے کہاکہ کرک میں ہندو سمادھی کو آگ لگانا اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کاشاخسانہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردی سے تو فوج لڑ سکتی ہے، شدت پسندی سے لڑنا سول سوسائٹی کا کام ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارے سکولوں سے لیکر معاشرتی محفلوں تک شدت پسندی کیخلاف کچھ نہیں کیا جارہا، ہم اس دلدل میں مزید دھنستے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…