مندر جلانے کا واقعہ ، چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا حکومت کا ردعمل بھی آگیا

  جمعرات‬‮ 31 دسمبر‬‮ 2020  |  13:37

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے 5 جنوری کو کرک میں مندر جلانے کا کیس سماعت کیلئے مقرر کر تے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کو 4 جنوری کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹسگلزار احمد نے 5 جنوری کو کرک میں مندر جلانے کا کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے چیف جسٹس کی اقلیتی حقوق کیلئے ایک رکنی کمیشن بنانے کی بھی ہدایت کی ۔چیف جسٹس گلزار احمد نے مندر جلانے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس


سے پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین رمیش کمہار نے ملاقات کی ،اعلامیہ کے مطابق رمیشن کمہار نے کرک میں مندر جلانے کے واقع سے چیف جسٹس کو آگاہ کیا، چیف جسٹس نے مندر جلانے کے واقع پر تشویش کا اظہار کیا۔دریں اثناوفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے واقعے کو اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔کرک میں مندر کو آگ لگانے اور مسمار کرانے کے معاملے پر اپنے ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے واقعے کو اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔ فواد چوہدری نے کہاکہ کرک میں ہندو سمادھی کو آگ لگانا اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کاشاخسانہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردی سے تو فوج لڑ سکتی ہے، شدت پسندی سے لڑنا سول سوسائٹی کا کام ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارے سکولوں سے لیکر معاشرتی محفلوں تک شدت پسندی کیخلاف کچھ نہیں کیا جارہا، ہم اس دلدل میں مزید دھنستے جا رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎