جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل ناکام ہائیکورٹ نے شہزاد اکبر کو طلب کرلیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں بڑھتے جرائم، کچہری کی حالت زار اور پراسیکیوشن برانچ کے قیام کے کیسسز میں وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبرطلب کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے

وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، یہ عدالت حکومت سے توقع کر رہی تھی، اس عدالت کو رپورٹس سے کوئی غرض نہیں۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں دہائیوں سے پراسیکیوشن برانچ نہیں ، وفاقی دارالحکومت کو تو ماڈل ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے آئین کا مسودہ دکھاتے ہوئے استفسار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب بتائیں یہ آئین کب آیا تھا ؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ آئین 1973 میں آیا تھا، عدالت نے کہا کہ اس آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف ہر شہری کو فراہم کیا جائے گا، عدالتیں دیکھ لیں آپ نے کس حال میں بنا رکھی ہیں اور شہریوں کو وہاں کتنے مسائل ہیں، انصاف کی فراہمی میں تمام رکاوٹیں ریاست کی طرف سے ہوتی ہیں اور الزام عدالتوں پر آتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جو رپورٹس جمع کرواتے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں عملاً بتائیں کیا کیا، دس دن کا وقت ہے ہمیں کوئی عملی حل بتائیں ورنہ اعلیٰ ترین عہدیدار کو طلب کریں گے۔عدالت نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کردی



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…