ہفتہ‬‮ ، 01 جون‬‮ 2024 

وزیر اعظم عمران خان کا منشیات کیخلاف مہم چلانے کا اعلان

datetime 7  دسمبر‬‮  2020

راولپنڈی (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے منشیات کیخلاف بھرپور مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز طریقے سے دولت کمانے والوں کو معاشرے کا تسلیم کرنا بدقسمتی ہے،ماضی میں منشیات کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر توجہ نہیں دی گئی، افغان جہاد کے

وقت پہلی بار پاکستان میں ڈرگز کا سنا، افغانستان سے پاکستان میں منشیات آتی اور آگے جاتی تھی،ماضی میں منشیات اور کرپشن کے پیسے سے کئی لوگ انتخابات بھی جیتے، چاہتا ہوں ڈرگ اور کرپشن کے خلاف معاشرہ مل کر لڑے، ہمیں نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے بچانا ہے، منشیات فروشی کے خلاف کام کرنا ہوگا۔ پیر کو اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منشیات کو پہلے ہمارے ملک میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہ سوچتے تھے کہ ہمارے ملک کا تو نقصان نہیں ہو رہا تاہم اللہ کا قانون ہے کہ جب بھی آپ اس چیز کی اپنے معاشرے میں اجازت دیتے ہیں جس کو اللہ نے منع کیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کے معاشرے میں نقصان نہ پہنچائے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جن لوگوں نے بھی منشیات سے پیسہ بنایا، معاشرہ انہیں برا نہیں سمجھتا تھا، سب کو معلوم ہوتا تھا کہ اس شخص نے منشیات سے بہت پیسہ بنایا ہے لیکن کیونکہ اس نے پیسہ بنایا تھا لہٰذا

وہ معاشرے کیلئے قابل قبول تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہم نے ان لوگوں کو معاشرے میں عزت دی جو ناجائز طریقوں اور منشیات سے پیسہ بناتے تھے، اس کا بالآخر معاشرے کو نقصان ہونا تھا۔انہوں نے کہا کہ منشیات سے آنے

والے پیسے نے پاکستان کو بھی نقصان پہنچایا، وہ پیسہ غلط کاموں میں استعمال ہوتا تھا، کرپشن بڑھاتا تھا، سیاستدانوں کی غلط سیاسی مہمات کی پشت پناہی میں استعمال ہوتا تھا، ایسے پیسے سے کئی لوگ انتخابات بھی جیتے اور وہ ایسے لوگوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے تھے۔انہوںنے کہاکہ

آج ہماری یہ صورتحال ہے کہ پاکستان میں 70لاکھ لوگ منشیات کے عادی بن چکے ہیں، نیوزی لینڈ کی آبادی اس سے آدھی ہے، سنگاپور کی اتنی آبادی نہیں ہے، یعنی ملکوں کی اتنی آبادی نہیں ہے جتنے ہمارے ہاں منشیات کے عادی افراد ہو گئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایک گھر میں منشیات

کا عادی شخص آ جاتا ہے تو وہ سارے گھر کو تباہ کر دیتا ہے، ایک باپ منشیات کا عادی ہے تو اپنی بیوی اور بچوں کی زندگی تباہ کر دیتا ہے، اگر ایک بیٹا منشیات کا عادی ہو جائے تو وہ اپنے ماں باپ اور پورے گھر کی زندگی تباہ کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس لت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور

یہ خاموش قاتل ہے، لوگ اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے اور معاشرے کو اس کی اہمیت کا نہیں پتہ کہ یہ کس طرح معاشرے میں کینسر کی مانند پھیلتا جا رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اب سب سے خطرناک چیز سنتھیٹک ڈرگ یعنی آئس ہے، یہ اسکولوں میں پھیلتی جا رہی ہے، پہلے تو یونیورسٹی

میں سنتے تھے منشیات کے بارے میں لیکن اب یہ اسکولوں میں بھی مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد سے جرائم کے اعدادوشمار لیے تو انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں آئس کا نشہ پھیل گیا ہے، ایک اسکول کا بچہ اگر منشیات کا شکار ہو جائے تو نہ وہ صحیح طریقے سے پڑھ سکتاہے

کیونکہ منشیات سب سے پہلے آپ کا ڈسپلن متاثر کرتی ہے اور وہ انسان کی شخصییت بھی بدل دیتی ہے کیونکہ وہ زندگی کی جدوجہد نہیں کر سکتا جبکہ صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جتنی چھوٹی عمر میں منشیات کے استعمال کا آغاز کیا جاتا ہے، اسے

چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے اور اس خاموش قاتل کا مقابلہ صرف اے این ایف نہیں کرے گی بلکہ پورے معاشرے کو اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ کبھی بھی صرف پولیس جرائم سے مقابلہ نہیں کر سکتی، قانون نافذ کرنے والے ادارے اکیلے جرائم کا مقابلہ نہیں کرتے، ایک معاشرہ

جرائم سے لڑتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ کرپشن جب معاشرے میں پھیلتا ہے تو معاشرہ جب تک کرپٹ لوگوں کو برا نہیں سمجھتا، وہ کرپشن صرف نیب کا انصاف کے نظام سے نہیں رک سکتی، پورا معاشرہ مل کر اس کا مقابلہ کرتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنگاپور

میں بھی کرپشن تھی لیکن ان کے رہنما لی کوان جو نے سب سے پہلے کرپشن کو نشانہ بنایا لیکن اس نے کرپشن پر ایسے حملہ کیا کہ جب ان کی 15سالہ وزارت عظمیٰ کے بعد ان کا ایک وزیر کرپشن میں پکڑا گیا تو اس نے خودکشی کر لی کیونکہ اس نے سمجھا کہ معاشرے میں اب میری جگہ نہیں رہی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ امریکا میں ارب پتی آدمی برنی میڈوکس تھا، سارے اسٹارز اس کے پاس سرمایہ کرتھے تھے لیکن جب اس کی کرپشن پکڑی گئی اور وہ دیوالیہ ہوا تو اس کے ایک بیٹے نے خود کشی کی، دوسرا بیٹا تناؤ کا شکار ہو کر مر گیا اور بیوی نے اسے طلاق بھی دے دی تھی۔انہوں نے

کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس منشیات کے کینسر سے پورا معاشرہ لڑے اور اس سلسلے میں کونسل بنا کر تمام وزارتوں کو بلاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور آگاہی پیدا کرے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نارکوٹکس پر پورا پروگرام بنائیں گے کیونکہ اس سے

سب سے بڑا خطرہ ہمارے نوجوانوں کو ہے، ہم نے اپنی آنے والی نسل کو اس سے بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں 70لاکھ افراد منشیات کا شکار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ 70لاکھ خاندانوں پر برا وقت گزر رہا ہے اور اب منشیات کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلے گی اور اگلے ہفتے اجلاس بلاؤں گا جس کے بعد پورا ملک اس کے خلاف جنگ لڑے گا۔

موضوعات:



کالم



آل مجاہد کالونی


یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…

ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…