جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

مریم نواز بال بال بچیں ملتان جلسے کے شرکاء میں کھلبلی مچ گئی

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے قافلے کی گاڑیاں آپس میں ٹکرانے سے بال بال بچ گئیں۔بتایا گیا ہے کہ مریم نواز کی گاڑی سے آگے لیگی رکن اسمبلی مرزا جاوید کی گاڑی کا ٹائر اچانک پھٹ گیا جس سے پیچھے آنے والی گاڑیاں آپس میں ٹکرانے

سے بال بال بچیں۔قافلے کے تمام افراد محفوظ رہے۔دریں اثنا جاتی امراء سے ملتان کیلئے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوام سے گزارش کروں گی کہ اس حکومت کی نالائقی کیخلاف جدوجہد تو کرنا ہی پڑے گی ،ہم اس جدوجہد میں سب سے آگے ہیں ،آصفہ بھٹو بھی ملتان کیلئے نکلی ہیں،ملک پر مشکل آئی ہے تو بیٹیاں بھی گھروں سے باہر نکلی ہیں ،اس حکومت کو اپنا گھر جانا نظر آ رہا ہے ،اب اس حکومت کے آخری چند دن ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام طلبہ کے لئے ایک پالیسی ہونی چاہیے تو میڈیکل کے طلبہ کے لئے بھی وہی پالیسی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والے بھی اس حکومت سے تنگ آ چکے ہیں ،ملک میں کہیں کرونا ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا ،حکومت اور جماعت اسلامی کے جلسے ہو رہے ہیں تو کورونا نہیں پھیل رہا کیا ،سارے ایس او پیز پی ڈی ایم کے لئے ہیں ،کوویڈ 19 تو چلا ہی جائے گا، کوویڈ 18 کو نکالنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امپائر کی انگلی پر آنے والے

کو جمہوریت والی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا ،گرفتاریوں کے خوف سے دیواریں پھلانگنے والی نہیں، بغیر کسی گناہ کے کئی بار جیل کاٹ چکی ہوں، تیسری بار بھی گرفتاری کا کوئی خوف نہیں ،مجھے گرفتار کیا بھی گیا تو کوئی ایشو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس ادارے ٹیلیفون ٹیپ کرتے

ہیںیہ میرے لئے کوئی خبر نہیں ، ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک کی حفاظت کریں ،آپ کا ماتحت ادارہ آپ کا فون ٹیپ کرتا ہے لیکن آپ کے اندر اتنی غیرت نہیں کہ آپ انہیں کہیں کہ یہ اس ادارے کا کام نہیں ہے،جو سلیکٹرز کے ساتھ آیا ہو اس کی بات کوئی نہیں سنتا،عمران خان جوتے پالش کرنے میں آگے نکل گئے ہیں،عمران خان اپنی نوکری بچانے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…